صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 470 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 470

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۷۰ ۶۵ - کتاب التفسير / إبراهيم جس کے معنی پیپ اور خون کئے گئے ہیں خاص طور پر ذکر کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی۔ صدید کے مذکورہ بالا معنی مجاہد سے مروی ہیں اور اس کے معنی تیز گرم پانی بھی ہوتے ہیں۔ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمُ : اس سے مراد أَيَادِیا راد أَيَادِيَ اللهِ عِنْدَ كُمْ وَأَيَّامَهُ ہے ۔ یعنی تم اپنے آپ پر (ہونے والے) اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی تائیدات کے واقعات یاد کرو۔ علامہ طبری نے یہ مراد بسند حمیدی سفیان بن عیینہ سے نقل کی ہے۔ اسی طرح عبد اللہ بن احمد سے بھی ایام اللہ کا یہی مفہوم مروی ہے اور بروایت ابن ابی حاتم حضرت ابن عباس کی سند سے حضرت ابی بن کعب کا بھی یہی قول منقول ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۷) مؤخر الذکر نے آیت وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِأَيْتِنَا أَنْ أَخْرِجُ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَتِ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيْمِ اللَّهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَايَتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (ابراهیم (۶) سے یہ مفہوم مستنبط کیا ہے اور بتایا ہے کہ آیاوہ اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے انعام ہیں جو کسی قوم پر کئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ساتویں آیت میں فرماتا ہے : وَإِذْ قَالَ مُولی لِقَوْمِهِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنْجَكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۔ وَ فِي ذَلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ (ابراهیم :۷) اس آیت سے آ : ایام اللہ کا کا مفہوم واضح کیا گیا ہے۔ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ : یعنی ہر بات جس کی تم نے خواہش کی اس نے تمہیں عنایت کی۔ پوری آیت یہ ہے: وَالكُمُ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ (ابراهیم : ۳۵) اور جو کچھ (بھی) تم نے اس سے مانگا اس نے تمہیں دیا ہے اور اگر تم اللہ کے احسان گننے لگو تو ان کا شمار نہیں کر سکو گے۔ انسان یقینا بڑا ہی ظالم ( اور ) بڑا ہی ناشکر گزار ہے۔ تَبْغُونَهَا عِوَجًا: تم اس میں کبھی کی جستجو کرتے ہو۔ مجاہد ہی نے یہ مفہوم بیان کیا ہے۔ پوری آیت ہے: قال يَاهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ) ( آل عمران: ۱۰۰) کہہ اے اہل کتاب ! تم اللہ کی راہ سے انہیں کیوں روکتے ہو جو ایمان لے آئے ہیں اس میں کبھی اختیار کرنا چاہتے ہو۔ بحالیکہ تم گواہ ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے ہر گز غافل نہیں۔ سورہ اعراف میں فرماتا ہے: وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُونَ وَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَاذْكُرُوا إِذْ كُنْتُمْ قَلِيلًا فَكَثَرَكُمْ وَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ (الاعراف: ۸۷) اور ہر راستہ پر رح وو ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : اور یقیناً ہم نے موسی کا الله ابع : اور یقینا ہم نے موسی کو اپنے نشانات کے ساتھ (یہ اذن دے کر ) بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لا اور انہیں اللہ کے دن یاد کر ایقیناً اس میں ہر بہت صبر کرنے والے (اور ) بہت شکر کرنے والے کے لئے بہت سے نشانات ہیں۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور (یاد کرو) جب موسی نے اپنی تو جب موسی نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی جب اس نے تمہیں فرعون کی قوم سے نجات بخشی وہ تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو تو ہلاک کر دیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے (تمہارے لئے ) بہت بڑا ابتلا تھا۔“