صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 470
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۷۰ ۲۵ - كتاب التفسير / إبراهيم جس کے معنی پیپ اور خون کئے گئے ہیں خاص طور پر ذکر کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی۔صدید کے مذکورہ بالا معنی مجاہد سے مروی ہیں اور اس کے معنی تیز گرم پانی بھی ہوتے ہیں۔r اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمُ : اس سے مراد أَيَا دِی الله عِنْدَ كُمْ وَأَيَّامَہ ہے۔یعنی تم اپنے آپ پر ہونے والے) اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی تائیدات کے واقعات یاد کرو۔علامہ طبری نے یہ مراد بسند حمیدی سفیان بن عیینہ سے نقل کی ہے۔اسی طرح عبد اللہ بن احمد سے بھی آیا ہ اللہ کا یہی مفہوم مروی ہے اور بروایت ابن ابی حاتم حضرت ابن عباس کی سند سے حضرت ابی بن کعب کا بھی یہی قول منقول ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۷۷) مؤخر الذکر نے آیت وَ لَقَد أَرْسَلْنَا مُوسَى بِأَيْتِنَا أَنْ أَخْرِجُ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلمتِ إِلَى النُّورِ وَ ذَكَرْهُمْ بِأَيْدِمِ اللَّهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لايت يُكُنِ صَبَارٍ شَكُورٍ (ابراهيم (۲) سے یہ مفہوم مستنبط کیا ہے اور بتایا ہے کہ آیا وہ اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ ه کے انعام ہیں جو کسی قوم پر کئے جاتے ہیں۔اس کے بعد ساتویں آیت میں فرماتا ہے: وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنْجُكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُدَبِحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ - وَفِي ذَلِكُمْ بَلَا مِن رَّبِّكُمْ عَظیم O (ابراهیم : ۷) اس آیت سے آیام اللہ کا مفہوم واضح کیا گیا ہے۔مِنْ كُلِّ مَا سَالَتُمُوهُ : یعنی ہر بات جس کی تم نے خواہش کی اس نے تمہیں عنایت کی۔پوری آیت یہ ہے: وَاشْكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تَحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّاره (ابراهیم : ۳۵) اور جو کچھ (بھی) تم نے اس سے مانگا اس نے تمہیں دیا ہے اور اگر تم اللہ کے احسان گننے لگو تو ان کا شمار نہیں کرسکو گے۔انسان یقینا بڑا ہی ظالم ( اور ) بڑا ہی نا شکر گزار ہے۔تَبْغُونَهَا عِوَجًا: تم اس میں کبھی کی جستجو کرتے ہو۔مجاہد ہی نے یہ مفہوم بیان کیا ہے۔پوری آیت ہے: قل ياهل الكتب لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَ اَنْتُم شُهَدَاءُ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ) ( آل عمران: ۱۰۰ ) کہہ اے اہل کتاب ! تم اللہ کی راہ سے انہیں کیوں روکتے ہو جو ایمان لے آئے ہیں اس میں کبھی اختیار کرنا چاہتے ہو۔بحالیکہ تم گواہ ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے ہر گز غافل نہیں۔سورۃ اعراف میں فرماتا ہے: وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَاذْكُرُوا إِذْ كُنْتُمْ قَلِيلًا فَكَثَرَكُمْ وَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ (الاعراف: ۸۷) اور ہر راستہ پر ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور یقیناً ہم نے موسی کو اپنے نشانات کے ساتھ (یہ اذن دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لیا اور انہیں اللہ کے دن یاد کر ایقیناً اس میں ہر بہت صبر کرنے والے ( اور ) بہت شکر کرنے والے کے لئے بہت سے نشانات ہیں۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور (یاد کرو) جب موسی نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی جب اس نے تمہیں فرعون کی قوم سے نجات بخشی وہ تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو تو ہلاک کر دیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے (تمہارے لئے ) بہت بڑا ابتلا تھا۔“