صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 469 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 469

صحيح البخاری جلد ۱۰ ابراهيم : ۲۷): اسْتُؤْصِلَتْ۔۶۵ - کتاب التفسير / إبراهيم یہ خُلہ اور خلل کی جمع بھی ہے۔احتلت کے معانی ہیں جڑ سے اکھاڑ دی گئی۔ریح حضرت ابن عباس نے کہا: کاچ کے معنی داع یعنی بادی اور داعی الی اللہ۔اللہ کی طرف بلانے والا اور راہنمائی کرنے والا۔یہ لفظ کاپ سورہ رعد میں بمعنی داعی آیا ہے۔فرماتا ہے: انما انت مُنْذِرٌ وَلِكُلِ قَوْمٍ هَادٍ (الرعد:۸ تو صرف انذار کرنے والا ہے اور ہر قوم کو اللہ کی طرف بلانے والا ہے۔علامہ عینی کے نزدیک کاتبوں کی غلطی سے اس آیت کی تشریح یہاں درج ہوئی ہے ، سورہ رعد کی تفسیر میں درج ہونی چاہیئے تھی۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۲) مفسرین اس آیت کی نسبت متفق ہیں کہ اس سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔لیکن ان کا اختلاف مفہوم آیت کی نسبت ہے۔علامہ طبری نے مذکورہ بالا مفہوم بسند علی بن ابی طلحہ و قتادہ نقل کیا ہے۔اس تاویل میں ان کے مد نظر یہ آیت معلوم ہوتی ہے: وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلَى دَارِ السَّلْمِ وَيَهْدِى مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيم (یونس:۲۲) اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے پسند کرتا ہے (اسے) ایک سیدھی راہ پر چلا کر منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔بعض متشبع راویوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ ہم نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: أَنَا الْمُنْذِرُ وَأَوْمَاً إلَى عَلى وَقَالَ أَنْتَ الْهَادِی مندر میں ہوں اور حضرت علی کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: تو ہادی ہے۔(فتح الباری جزء۸ صفحہ ۴۷۷) اس قسم کی ضعیف روایات میں جو تکلف و تصنع ہے ظاہر ہے۔جس کی وجہ سے امام بخاری کو تحقیق کی ضرورت پیش آئی ہے اور آیت کا صحیح مفہوم اور اس سے جو مراد ہے اس بارے میں مستند قول محفوظ کر لیا ہے۔اس تعلق میں بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے بھی بعض لوگوں کو اسلام میں داخل کرے گا۔اگر یہ روایات صحیح ہوں تو کتاب المغازی باب ۶۱ کی تشریح میں گزر چکا ہے کہ اہل ہمدان ان کے ذریعے سے اسلام میں داخل ہوئے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی تو آپ الحمد للہ کہتے ہوئے سر بسجود ہو گئے۔لیکن ایسی روایتوں کی صحت کے باوجود ان کا تعلق محولہ بالا آیت سے قطعا نہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں اور آپ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ ہر قوم کے لئے ہادی ہیں۔یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے جو اپنے وقت پر انشاء اللہ پوری ہو گی۔صَدِید کے معنی پیپ و خون - اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدِهِ مِنْ وَرَابِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ (ابراهیم : ۱۶، ۱۷) اور انہوں نے (اپنی) فتح کے لئے دعا کی اور (نتیجہ یہ ہوا کہ) ہر ایک سرکش ( اور ) حق کا دشمن ناکام رہا۔اس ( دنیوی عذاب) کے بعد (اس کے لئے ) جہنم کا عذاب بھی مقدر ) ہے اور (وہاں) اُسے تیز گرم پانی پلایا جائے گا۔علامہ عینی نے لفظ صدید کے تعلق میں بعض روایات نقل کی ہیں۔جو امام بخاری نے نظر انداز کی ہیں اور وہ ضعیف اور قابل ذکر نہیں۔جن کا خلاصہ یہ ہے کہ پیپ ان کے مقعد اور اندام نہانی سے نکلے گی اور وہ اسے پئیں گے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ (۲) اس سے ظاہر ہے کہ امام بخاری کو اس لفظ