صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 468 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 468

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۶۸ ۶۵ - كتاب التفسير / إبراهيم ١٤ - سُورَةُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَادٍ (الرعد: ۸) داع۔ حضرت ابن عباس نے کہا: ھاد سے مراد ہے وَقَالَ مُجَاهِدٌ صَدِيدٍ (ابراهیم : (۱۷) داعی الی اللہ)، اور مجاہد نے کہا: صدید سے مراد قَيْحٌ وَ دَمٌ۔ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ اذْكُرُوا ہے پیپ اور خون، اور ابن عیینہ نے کہا: اذکروا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمُ (ابراهيم : ٧) أَيَادِي نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ سے مراد ہے: راد ہے: تم اپنے آپ پر اللَّهِ عِنْدَكُمْ وَأَيَّامَهُ۔ ہونے والے) اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی تائیدات کے واقعات یاد کرو۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ مِنْ كُلِّ مَا اور مجاہد نے کہا: مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ کا مطلب سألتموه ( ابراهيم : ٣٥) رَغِبْتُمْ إِلَيْهِ ہے : جس چیز کی بھی خواہش تم نے اس سے کی۔ فِيهِ۔ تَبْغُونَهَا عِوَجًا (آل عمران: (۱۰۰) تَبْغُونَهَا عِوَجًا سے مراد ہے: تم اس راہ میں تَلْتَمِسُونَ لَهَا عِوَجًا وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمُ ٹیڑھا پن اختیار کرنا چاہتے ہو۔ وَ إِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ سے مراد ہے: جب تمہارے رب نے تمہیں آگاہ (ابراهیم : ٨) أَعْلَمَكُمْ آذَنَكُمْ رَدُّوا اور خبر دار کیا۔ رَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ مثال أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ هَذَا مَثَلٌ كَفُّوا ہے کہ جس بات کا حکم دیئے گئے اس کو ماننے) عَمَّا أُمِرُوا بِهِ مَقَامِي (ابراهيم : ١٥) سے وہ رک گئے۔ مقامی سے مراد ہے: جہاں اللہ حَيْثُ يُقِيمُهُ اللهُ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ انہیں اپنے سامنے کھڑا کرے گا۔ من ور آیہ سے ورايه (ابراهيم : ۱۷) قُدَّامِهِ جَهَنَّمُ مراد ہے: اس کے سامنے جہنم ہوگا۔ لكُم تبعاً لكم تبعا ( ابراهيم : (۲۲) وَاحِدُهَا یعنی تمہارے تابعدار۔ اس کی واحد تابع ہے، تَابِعٌ، مِثْلُ غَيْبِ وَغَائِبِ بِمُصْرِخِكُمُ ہے غیب اور غائب۔ بِمُصْرِخِكُمُ سے مراد ہے تمہارا فریاد رس۔ اسْتَصْرَ خَنِی کے معنی ہیں: اُس نے مجھے مدد کے لیے پکارا۔ يَسْتَصْرِخُه، (ابراهیم : ۲۳) اسْتَصْرَ خَنِي اسْتَغَاثَنِي، يَسْتَصْرِحة (القصص: ۱۹) من صراخ سے ہے۔ (جس کے معنی ہیں مدد کے لئے الصَّرَاخِ۔ وَلَا خِلَلٌ (ابراهيم : ٣٢) پکارنا۔ یعنی وہ اسے مدد کے لئے پکارتا ہے۔ ) ولا مَصْدَرُ خَالَلْتُهُ خِلَالًا، وَيَجُوزُ خِلَلٌ کوئی دوستی نہیں۔ خالاته (میں نے اس أَيْضًا جَمْعُ خُلَةٍ وَخِلَالٍ اجْتُثَتُ سے گہری دوستی رکھی) سے خلل مصدر ہے۔ اور