صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 465 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 465

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۶۵ ۶۵ - کتاب التفسير / الرعد ناواقف ہوگا۔اس حالت ضعف میں آپ کو یہ وحی ہوئی: لَن يَضُرُوكُم إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُولُوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ ) (آل عمران: ۱۱۲) تمہیں یہ ہرگز نقصان نہیں دے سکیں گے سوائے معمولی ایزاد ہی کے ، اور اگر یہ تم سے جنگ کریں گے تو تمہارے مقابلہ میں پیٹھ پھیر کر راہ فرار اختیار کریں گے۔پھر انہیں کسی طرف سے بھی مدد نہیں مل سکے گی۔دوسری جگہ ان کی شکست فاش سے متعلق یہ مختصر سی خبر ہے: اَمَ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرُ 0 سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُولُونَ الذُّبُر ) ( القمر : ۴۶،۴۵) کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بہت بڑی جمیعت ہیں جو غالب ہوں گے ؟ عنقریب ان کی ساری جمیعت شکست کھا جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ آدھی وَ آمَزُه (القمر: ۴۷) بلکہ ان کی تباہی کی گھڑی کا وعدہ ہے اور وہ وعدہ کی گھڑی سخت ہلاک کرنے والی اور نہایت تلخ ہو گی۔ان مجملاً الفاظ میں کتنی بڑی تحدی اور زور ہے اور منفی و مثبت جہت سے اس میں پوری پوری وضاحت ہے کہ یہ کفار اپنی بہت جمیعت کے باوجو د رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو نقصان نہیں دے سکیں گے بلکہ خود نہایت بُری طرح شکست کھائیں گے۔صرف انہی الفاظ پر بس نہیں بلکہ اس موعودہ تباہی کا وقت تک معین کیا گیا ہے کہ وہ رمضان کے مہینہ میں ہوگی اور اس تباہی کے روز فلاں فلاں نشان ظاہر ہوں گے۔اس نشان دہی کی تفصیل کتاب المغازی میں غزوہ بدر و غزوہ فتح مکہ کے متعلق ابواب میں گزر چکی ہے۔اعادہ کی چنداں ضرورت نہیں۔تاریخ سے واقف اس واقعہ سے متعلق بخوبی علم رکھتے ہیں۔دوسری مثال جس کا تعلق ہمارے زمانہ سے ہے وہ یہ ہے: دنیا میں ایک نذیر آیا، پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ (تذکره صفحه ۸۱) اس نذیر ربانی نے پانچ شدید زلزلہ آنگن، الہی مؤاخذہ اور قہری تجلی سے متعلق مدت ہوئی دنیا کو اطلاع دی اور اُن میں سے ایک زلزلہ کی نسبت یہ نشاندہی کی کہ ”زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار ۰۱ ۱۹۱۴ء کی پہلی عالمگیر جنگ میں یہ زلزلہ افگن نشان ہم نے اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھا، پھر دوسری عالمگیر جنگ ہوئی جس کی علامت یہ بتائی گئی کہ خون کی ندیاں چلیں گی۔دوسری جنگ میں تباہ کاری کے اعداد وشمار شائع ہو چکے ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے: 1) میدان جنگ میں انسانی جانوں کی ہلاکت دو کروڑ نفوس سے زیادہ (۲) سول آبادی کا نقصان جان بذریعہ ہوائی حملوں کے ڈیڑھ کروڑ عورتیں، بچے اور بوڑھے۔زخمیوں کی تعداد جن کے ہاتھ پاؤں کٹ گئے اور بالکل بے کار ہو گئے تین کروڑ۔(۴) خانہ بربادی کا اندازہ اڑھائی کروڑ لوگ گھروں کی بربادی سے بے خانماں ہو گئے۔ا (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۵۲)