صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 464
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ - کتاب التفسير / الرعد کی گھڑی پھر کئی ماہ کے لئے ٹال دی ہے ورنہ زبر دست اندیشہ تھا کہ چاند کے برج جدی میں داخل ہونے سے دنیا میں قیامت برپا ہو جاتی اور سورج گرہن ہونے پر ابھی تک اس خطرے کا امکان ہے اور سوسائٹی کے ارکان انگلستان اور ویلز کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر ابھی تک بیٹھے عبادت اور دعا میں مشغول ہیں۔اس سوسائٹی کا اپنے متعلق یہ زعم ہے کہ ان کا مریخ اور زہرہ سیاروں کی مخلوق سے روحانی تعلق ہے۔اس بارے میں خبریں تمام دنیا کے ممالک میں اخبارات کے ذریعے کافی شہرت پاچکی ہیں کہ کسی حوالہ دینے کی ضرورت نہیں۔یہ خبر ہر ملک کے اخبارات میں جو گزشتہ دسمبر کے اواخر اور جنوری کے اوائل میں شائع ہوئے ہیں دیکھی جاسکتی ہے۔اس قسم کی متوہمانہ ذہنیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی مشرک اقوام میں بھی پائی جاتی تھی جس کی اصلاح آپؐ نے یہاں تک فرمائی کہ آج کل بھی مسلمان قومیں باوجود تنزل کے ان مشرکانہ تو ہمات سے محفوظ ہیں۔چنانچہ مذکورہ بالا خبروں کے ساتھ مصر، شام، پاکستان اور ایران و غیره اسلامی ممالک سے متعلق یہ خوش کن خبر بھی اخبارات میں آچکی ہے کہ وہ پر امید ہیں۔مصری اور عرب کے ہیئت دانوں نے اعلان کیا ہے کہ انہیں کوئی خطرہ نہیں۔خطرہ اگر ہے تو بھارت یا یونان ، ہند و یا عیسائی ممالک کو ہے جن کی اکثریت مشرک اور اوہام پرست ہے اور وہاں کے لوگ اس دہشتناک خبر سے ہر اساں اور ترساں ہیں۔ان تازہ خبروں سے حدیث زیر باب کے اس پس منظر کی تصدیق ہوتی ہے جس کا ذکر عبد اللہ بن دینار نے کیا ہے۔یہ قیاس ہی نہیں بلکہ امر واقعہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات بارش ہونے پر فرمایا کہ آج بعض لوگوں نے اس حالت میں صبح کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مومن ہیں اور ستاروں کی تاثیرات کے منکر اور بعض اللہ تعالیٰ کے منکر اور ستاروں کے مومن۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح تعلیم اور تربیت کا مبارک نتیجہ یہ ہے کہ آج تک مسلم قومیں اس مشرکانہ ذہنیت سے محفوظ ہیں۔الشاعة سے قومی تباہی بھی مراد ہوتی ہے۔(دیکھئے کتاب الایمان، تشریح باب ۳۷، کتاب العلم، تشریح باب ۲۱) رئالوں، جوتشیوں، کاہنوں اور ہیئت دانوں کی مذکورۃ النوع پیشگوئیوں کے برعکس سر چشمہ وحی الہی سے خبر پانے والے انبیاء اور رسل کے تحدی آمیز اعلانات ہیں جو یقینی اور حتمی اندار و تبشیر کی خبروں پر مشتمل ہوتے ہیں اور بالکل مخالفانہ حالات میں غیر متوقع طور پر پورے ہو کر خدا انمائی کا ذریعہ بنتے اور مردہ ایمانوں کو زندہ کر کے بنی نوع انسان کے تزکیہ نفس اور برکات کا موجب ہوتے ہیں۔طوالت کے خوف سے یہاں صرف دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔ایک وہ جو قرآن مجید میں اور تاریخ عالم کی لوح پر محفوظ ہے اور دوسری تازہ مثال جو ہمارے زمانے کے علم و مشاہدہ سے سے تعلق رکھتی ہے۔قریش مکہ کی قوت و طاقت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی کمزوری اور بے بسی سے کون ! (بخاري، كتاب الإستسقاء، باب ۲۸ روایت نمبر ۱۰۳۸)