صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 463
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الرعد کچھ ان کے پیچھے ہے وہ سب ہی کچھ ) جانتا ہے۔اور وہ اُس کی مرضی کے سوا اس کے علم کے کسی حصہ کو (بھی) پانہیں سکتے۔اس کا علم آسمانوں پر (بھی) اور زمین پر (بھی) حاوی ہے۔اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔اور وہ بلند شان (رکھنے) والا (اور) عظمت والا ہے۔تورات میں جو یہ مذکور ہے : ” اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔“ ( پیدائش باب ۲۷:۱) اس سے یہی حقیقت تکوین مراد ہے جو ایک طرف روحانی طور پر انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ نمایاں ہو رہی ہے اور دوسری طرف انسان کے مادی ذرائع جد وجہد سے پایہ تکمیل کی طرف حرکت میں ہے۔دونوں قسم کی تحریکیں مشیت ربانی کی بروز اور ارادہ الہی کے تحت ظہور پذیر ہیں۔علامہ عینی نے بسند سفیان بن عیینہ ، عبد اللہ بن دینار کا قول نقل کیا ہے کہ انسان کو تو بہت سی باتوں کا علم نہیں۔پھر علم غیب کی بے شمار باتوں میں سے صرف پانچ باتوں کی تخصیص کیوں ؟ اس سوال کا انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ مشرکین عرب کا یہ اعتقاد تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان مذکورہ بالا پانچ باتوں کا علم ان کے دیوتاؤں، کاہنوں اور جو تشیوں کو بھی ہے، اس کی نفی کی گئی ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان پانچ باتوں کی بابت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص طور پر دریافت کیا گیا ہو۔ورنہ صرف پانچ باتوں کے ذکر سے تعداد کے بارہ میں استدلال درست نہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۳۱۳) اور حضرت حسن بصری کا قول گزشتہ تشریح میں گزر چکا ہے کہ صالح شخص اپنے اصل سے تعلق پکڑتا اور اس کا روپ دھارتا ہے۔سورہ رعد کی جس آیت سے عنوان باب قائم کیا گیا ہے وہ یہ ہے: اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الأرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ ه (الرعد: 9) اللہ (خوب) جانتا ہے اُسے (بھی) جو ہر مادہ اُٹھاتی ہے اور جسے رحم ناقص کر (کے گرا) دیتے ہیں، اور (اسے بھی) جسے وہ بڑھاتے ہیں۔اور ہر ایک چیز اس کے پاس ضرورت کے مطابق موجود ہے۔لفظ بمقدار کی تشریح کے تعلق میں یہ آیت گزر چکی ہے۔عبد اللہ بن دینار کا قیاس صحیح معلوم ہوتا ہے۔نہ صرف گزشتہ زمانوں ہی میں مشرکین عرب و عجم دیوتاؤس، کاہنوں اور جو تشیوں کی غیب دانی کا عقیدہ رکھتے تھے بلکہ ہمارے اس ترقی یافتہ زمانہ میں بھی علم و عرفان کا دعویٰ کرنے والی قوموں کی ذہنی پستی مشترک اور جاہل اقوام کے ذہنی افق سے بلند نہیں ہوئی ہے۔مشرق و مغرب کے اخبارات میں آج کل چرچا ہے کہ ہیئت دانوں اور جو تشیوں کے علم نجوم نے معلوم کیا ہے کہ قیامت کی گھٹری ۵ فروری ۱۹۶۲ء کو قائم ہو گی۔اس دن ساری دنیا کی تباہی ہے اور اس قیامت کے ظہور کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ اس دن آٹھ سیارے برج جدی میں اکٹھے ہوں گے۔جو تشیوں اور ہیئت دانوں کی اسی پیشگوئی سے نہ صرف ہندوستان میں سخت تشویش پھیل گئی بلکہ برٹش سوسائٹی کے ایک سو ارکان ۴ فروری ۱۹۶۲ء کو قیامت کی تباہ کاریوں سے دنیا کو بچانے کے لئے ایک پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ گئے اور ساری رات دعا کرتے رہے اور دوسرے دن انہوں نے اعلان کیا کہ ہم نے دعاؤں سے قیامت