صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 462
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۶۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الرعد ریح: ح : اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ انْثَى وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ : باب کا عنوان سورہ رعد کی نویں آیت سے قائم کیا گیا ہے جو مع ترجمہ پہلے نقل کی جاچکی ہے اور روایت نمبر ۴۶۹۷ میں علم الہی سے متعلق پانچ باتیں بتائی گئی ہیں جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور اکلید قرار دیا ہے۔یعنی وہ ایسے راز ہیں کہ جنہیں جب تک اللہ تعالیٰ نہ کھولے کوئی نہیں جانتا۔ان میں سے ایک بات مستقبل کا علم ، دوسری بات مشیمہ رحم میں جو کمی بیشی ہورہی ہے، بچے کی تکوین میں کیا کیا مؤثرات اثر انداز ہیں اور وہ کس شکل میں آئندہ نمایاں ہوں گے۔تیسری بات بارش کب نازل ہو گی۔چوتھی بات موت کا علم کسی نفس کو نہیں کہ وہ کس جگہ واقع ہو گی۔پانچویں بات قیامت یا تباہی کی گھڑی کب واقع ہو گی۔غیب کی یہ پانچوں باتیں علم الہی میں ہیں۔ان میں سے جو باتیں جتنی جتنی اللہ تعالی کسی کے لئے کھولتا ہے اتنا ہی اسے علم ہوتا ہے۔مثلاً فضائے آسمانی کے طبعی تغیرات معلوم کرنے کے لئے آلات بنائے جاچکے ہیں اور ان کے ذریعہ معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں جگہ فلاں وقت بارش ہوگی۔قدیم زمانے میں صحرائے عرب کے باشندے ہواؤں کی خنکی و کثافت اور اُن کے چلنے کی سمت سے اندازہ کر لیا کرتے تھے کہ برسات ہونے والی ہے۔حدیث کا مفہوم اس قدر ہے کہ مذکورہ بالا غیب کی باتوں کے لئے کچھ اکلیدیں ہیں۔جب اُن چابیوں میں سے کوئی چابی انسان کو ملتی ہے تو وہ اس کے ذریعہ سربستہ راز معلوم کرنے کی قدرت حاصل کر لیتا ہے۔آیت کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ انسان کو مثلاً کل ہونے والی بات کا علم قطعا نہیں دیا جاتا۔بحالیکہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے اور مشہور ہے کہ حوادث کا بھی سایہ ہوتا ہے جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ فلاں بات ہونے والی ہے۔اس کا اس غیب دانی سے کوئی تعلق نہیں جو حدیث کا موضوع ہے بلکہ رویاء صالحہ ، مکاشفہ اور وحی کے ذریعہ سے اسے آئندہ کا علم ہو جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ دجال سے متعلق جو تفصیلات بیان کی ہیں وہ حیرت انگیز ہیں اور آپ کی وسعت علم و نظر اور دور از قیاس و فکر ، آپ کے روحانی مشاہدات پر بین اور نا قابل انکار شہادت ہیں۔اللہ تعالیٰ نے نَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُوحى (الحجر:۳۰) انسان میں اپنی روح پھونکی ہے اور اسے اپنے صفات سے متصف کر کے تمام دیگر مخلوقات سے ممتاز کیا ہے اور اس کے اس امتیاز کا طبعی تقاضا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے علم و قدرت وغیرہ سے بہرہ ور ہو۔حدیث نبوی کا یہ مفہوم نہیں کہ انسان مذکورہ بالا باتوں کا علم حاصل نہیں کر سکتا۔بلکہ لفظ مفاتيح دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرار کائنات کے معلوم کرنے کے لئے چابیاں رکھی ہیں جن کے ذریعہ سے وہ معلوم کئے جا سکتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَهُ مَا فِي السَّبُوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاء وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَعُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقرۃ:۲۵۶) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے۔کون ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور میں سفارش کرے۔جو کچھ اُن کے سامنے ہے اور جو