صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 461
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۶۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الرعد آسمان سے کچھ پانی اتارا۔پھر (اس سے) کئی وادیاں اپنی (اپنی) گنجائش کے مطابق یہ نکلیں اور اس سیلاب نے اوپر آجانے والی جھاگ کو اٹھا لیا اور جس (دھات) کو وہ کسی زیور یا اور کسی گھریلو استعمال کے سامان بنانے کے لئے آگ میں تپاتے ہیں اس میں (بھی) اس (سیلاب) جیسا ایک جھاگ (ہوتا) ہے۔اسی طرح اللہ حق اور باطل (کے فرق) کو بیان کرتا ہے۔پھر جھاگ تو پھینکا جا کر تباہ ہو جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کو نفع دینے والی ہوتی ہے وہ زمین میں ٹھہری رہتی ہے۔اللہ تمام باتوں کو اسی طرح کھول کر بیان کرتا ہے۔اس آیت میں ایک ہی لفظ زید دو متضاد مفہوم میں آیا ہے۔ایک مثال میں سیلاب مع جھاگ اور دوسری مثال میں چاندی سونے وغیرہ کی میل جو زیور یا کوئی اور سامان بناتے وقت تلچھٹ کی صورت میں پھینکی جاتی ہے۔تین مثالوں سے حق و باطل کا فرق سمجھایا گیا ہے۔پانی زرخیز زمین میں ٹھہرتا اور نفع دیتا ہے اور ناکارہ زمین سے خشک ہو کر غائب ہو جاتا ہے۔بَاب ۱: اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ انْثَى وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ (الرعد: ٩) اللہ تعالیٰ کا فرمانان) اللہ (خوب) جانتا ہے اُسے ( بھی ) جو ہر مادہ اُٹھاتی ہے اور جسے رحم ناقص کر (کے گرا) دیتے ہیں۔اور (اسے بھی) جسے وہ بڑھاتے ہیں۔اور ہر ایک چیز اس کے پاس ضرورت کے مطابق موجود ہے غِيضَ نُقِصَ۔غِيضَ کے معنی ہیں گھٹ گیا ، کم ہوا۔٤٦٩٧: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ ۴۶۹۷ : ابراہیم بن منذر نے مجھے بتایا کہ معن نے الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مَعْنْ قَالَ حَدَّثَنِي ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ نے عبد اللہ بن دینار سے، عبد اللہ بن دینار نے عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَفَاتِحُ رسل اللہ کسی کلیم نے فرمایا: غیب کی چابیاں پانچ الْغَيْبِ خَمْس لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللهُ لَا ہیں جنہیں کوئی نہیں جانتا مگر اللہ ہی۔کوئی نہیں جانتا کہ کل کو کیا ہو گا مگر اللہ ہی، اور کوئی نہیں يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللهُ وَلَا يَعْلَمُ مَا جانتا کہ رحم کیا کچھ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں مگر تَغِيضُ الْأَرْحَامُ إِلَّا اللَّهُ وَلَا يَعْلَمُ مَتَى اللہ ہی، اور کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی يَأْتِي الْمَطَرُ أَحَدٌ إِلَّا اللهُ وَلَا تَدْرِی مگر اللہ ہی، اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ کس زمین نَفس باي ارض تموت (لقمان: ٣٥ میں مرے گا مگر اللہ ہی، اور کوئی نہیں جانتا کہ وَلَا يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا الله گھڑی کب بر پا ہو گی مگر اللہ ہی۔أطرافه ١٠٣٩، ٤٦٢٧، ٤٧٧٨ ٧٣٧٩۔