صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 460 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 460

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۶۰ ۲۵ - کتاب التفسير الرعد ابوستان حضرت ابن عباس سے بھی یہی منقول ہے کہ اچھی اور روی زمین مراد ہے۔تُنْبِتُ هَذِهِ وَهَذِهِ إِلَى جَنْبِهَا لَا تنبت ایک اگاتی ہے اور دوسری جو اُس کے ساتھ ہی ہے نہیں لگاتی۔ایک اور سند سے ان کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: تَكُونُ هَذِهِ حُلْوَةٌ وَهَذِهِ حَامِضَةٌ وَتُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَهُنَ مُتَجَاوِرَات۔باوجود یہ کہ ایک ہی پانی سے سیراب ہوتی ہیں اور قریب قریب واقع ہیں ان میں سے ایک شیریں ہے اور دوسری کھاری۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۷۴، ۴۷۵) صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ: یعنی مُجتمع وَغَيْرُ مُجتمع - بعض کھجوریں ایک ہی جڑ سے پھوٹتی ہیں اور اکٹھی ہوتی ہیں اور بعض الگ الگ جڑوں سے۔یہ معنی طبری نے بسند سعید بن جبیر نقل کئے ہیں۔نیز بسند سعید بن منصور حضرت براء بن عازب سے سے صنوان کے معنی یک بیچ کھجوریں جن کے تنے اور شاخیں ایک ہی جگہ سے پھوٹیں اور غیر صنوان الگ تھلگ اگنے والی کھجوریں۔مینو کے اصل معنی مثل کے ہیں۔یعنی ایک جیسی، ایک دوسرے کی مانند۔کہتے ہیں: عَمُ الرَّجُلِ صِنُو أَبِيهِ لِأَنَّهُمَا يَجْمَعُهُمَا أَصْلُ وَاحِدٌ - آدمی کا چا اس کے باپ کی مانند ہے۔کیونکہ ان دونوں کو ایک ہی اصل اکٹھا کرتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۵) علامہ عینی نے حسن بصری کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں صالح انسان کی مثال بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے اصل سے تعلق پکڑتا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی سرشت اور خو بو نہیں چھوڑتا۔جبکہ غیر صالح ان سے علیحدگی اختیار کرتا ہے اور نرالہ رنگ وروپ رکھتا ہے۔بحالیکہ دونوں کی زندگی کا دارومدار آسمانی آب حیات پر ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحه ۳۱۲) السَّحَابَ الثِّقَالَ: الَّذِي فِيهِ الْمَاء - بو جھل بادل جن میں پانی ہو۔فریابی ہی نے مجاہد سے یہ مفہوم نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۵) فرماتا ہے: هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَ يُنْشِئُ السَّحَابَ التَقَالَ (الرعد: ۱۳) وہی ہے جو تمہیں بجلی کی چمک) دکھاتا ہے۔خوف کے لیے (بھی) اور طمع کے لیے (بھی) اور بھاری بادل اٹھاتا ہے۔كَبَاسِطِ كَفَيْهِ إِلَى الْمَاءِ : يَدْعُو المَاءِ بِلِسَانِهِ وَيُشِيرُ إِلَيْهِ بِيَدِهِ فَلَا يَأْتِيهِ أَبَدًا: اس شخص کی مانند جس نے اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہیں یعنی اپنی زبان سے پانی کو بلا رہا ہے اور اپنے ہاتھ سے اسے اشارہ کر رہا ہے کہ میرے پاس آمگر وہ اس کے پاس کبھی نہیں آتا۔اس آیت کی تشریح پہلے گزر چکی ہے۔فریابی اور طبری نے مجاہد سے ان الفاظ آیت کا مفہوم نقل کیا ہے جو سابقہ مفہوم سے مختلف نہیں۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۵) فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا: بادل تمام وادیوں کو ان کی وسعت کے مطابق بھر دیتے ہیں جس سے وہ بہنے لگیں۔ذبدا را بیا ان پر جھاگ اٹھی ہوئی ہوتی ہے جو زمین کے لئے کھاد کا کام دیتی ہے۔فریابی نے زہد سے مراد سیلاب کیا ہے۔پوری آیت یہ ہے : اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ ذَبَدًا رَابيًا وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعِ رَبِّكَ مِثْلُهُ كَذلِكَ يَضْرِبُ اللهُ الْحَقِّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ كَذلِكَ يَضْرِبُ الله الأمثال (الرعد: ۱۸) اس نے