صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 459
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۵۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الرعد ہے کہ وہ یہ طریق سامعین کو توجہ دلانے کی غرض سے کیا کرتے تھے کہ یہاں اس لفظ کے معنی مایوسی کے نہیں۔ ابن کثیر وغیرہ کا خیال ہے کہ پہلی قراءت یہی تھی اور اَفَلَمْ یایی قراءت بعد کی ہے۔ حضرت علیؓ اور حضرت ابن عباس، عکرمہ ، ابن ابی ملیکہ، علی بن بدیمہ ، ابن حوشب علی بن حسین اور ان کے بیٹے زید اور پوتے زید اور ہوتے جعفر بن محمد سے یہ قراءت مروی ہے۔ لیکن طبری والی مذکورہ بالا روایت أَفَلَمْ يَتَبَین کی صحت سے متعلق بعض نے شدت سے انکار کیا ہے جن میں علامہ زمخشری بھی ہیں۔ ان سے یہ الفاظ مروی ہیں: وَهِيَ وَاللهِ فِرْيَةٌ مَا فِيهَا مِرْيَةٌ - بخدا یہ ایسا افتراء ہے جس میں کوئی شبہ نہیں اور ایک بڑی جماعت ان کے ہم خیال ہے۔ امام ابن حجر نے تکذیب کا طریق ناپسند کیا ہے اور مشورہ دیا ہے کہ ایسی صورت میں تاویل کی راہ مناسب ہے۔ جیسا کہ ابھی بتایا جا چکا ہے کہ لفظ کے اصل معنی کی طرف توجہ دلانے کے لئے مترادف الفاظ اختیار کئے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ قضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ - (بنی اسرائیل: ۲۴) یعنی تیرے رب نے (اس بات کا) تاکیدی حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ پڑھتے وقت انہوں نے قضی کی جگہ وطی بھی پڑھا اور بتایا کہ یہاں قطبی بمعنی فیصلہ نہیں بلکہ تاکیدی حکم ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۳، ۴۷۴) قَارِعَةٌ کا معنی دَاهِيَةٌ یعنی تباہ کن نا گہانی مصیبت۔ یہ معنی ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔ یہ لفظ سورہ رعد آیت نمبر ۳۲ میں آیا ہے۔ کہتے ہیں : قَرَعْتُ عَظْمہ میں نے اس کی بڑی توڑ دی۔ بعض نے لفظ قارعہ سے سَريَّة مراد لی ہے۔ یعنی حملہ آور دستہ فوج جو دشمن کی بیخ و بن اکھاڑ دے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۴) فَامْلَيْتُ : أَطلت میں نے مہلت دی، ڈھیل دی۔ مصدر ملی وَ مِلا وہ ہے۔ اس سے ملیا ہے بمعنی سہولت و وسعت۔ لمبے چوڑے قطعہ زمین کو بھی ملی کہتے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۴) فرماتا ہے: وَ لَقَدِ اسْتَهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَامْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ (الرعد: ۳۳) اور تجھ سے پہلے رسولوں سے (بھی) استہزاء کی گیا تھا جس پر میں نے اُن لوگوں کو جنہوں نے انکار کیا تھا ( کچھ عرصہ تک کے لیے ) ڈھیل دی۔ پھر میں نے اُن کو تباہ کر دیا۔ اب دیکھو میری سزا کیسی (سخت) تھی۔ مُعَقِّب : مُغَيْرُ - تبدیل کرنے والا۔ فرماتا ہے : أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ) آب (الرعد: ۴۲) اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ملک کو اس کے تمام اطراف سے کم کرتے چلے آرہے ہیں ؟ اور اللہ فیصلہ کرے گا، کوئی اس کے فیصلہ کو تبدیل کرنے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ مُتَجَاوِرَاتٌ طَيِّبُهَا وَخَبِيعُهَا الصِّبَاحُ : اچھے اور رڈی شورہ زمین کے ٹکڑے جو پاس پاس واقع ہوں۔ مُتَجَاوِرَات کے معنی مع متعلقہ آیت ابھی گزر چکے ہیں۔ آیت کی یہ شرح فریابی نے ابن ابی بھیج کی سند سے موصولاً نقل کی ہے۔ یعنی زمین میں کئی قسم کے ٹکڑے قریب قریب ایک دوسرے سے ملے ہوئے واقع ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض زرخیز اور بعض رڈی شورہ طبری نے بھی مجاہد سے آیت کا یہی مفہوم نقل کیا ہے اور بسند