صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 458
۴۵۸ ۶۵ - کتاب التفسير / الرعد صحیح البخاری جلد ۱۰ أمم لِتَتْلُوا عَلَيْهِمُ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِالرَّحْمَنِ قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ متاب (الرعد: ۳۱) اسی قسم کا انجام پانے کے لئے ہم نے تجھے ایک ایسی قوم میں بھیجا ہے جس سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں تا کہ تو ان لوگوں پر وہ کلام پڑھ کر سنائے جو ہم نے تیری طرف وحی کیا ہے۔بحالیکہ وہ رحمن کا انکار کر رہے ہیں۔تو کہہ وہ میرا رب ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اس پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔أَفَلَمْ يَاسِ : أَفَلَمْ يَتبين کیا ابھی تک ظاہر نہیں ہوا یا نہیں کھلا ؟ ابو عبیدہ نے اس فقرے کا مفہوم أفلم يَعْلَمُ وَيَتَبَين بیان کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۳) یعنی ابھی تک انہیں علم نہیں ہوایا اُن پر بات واضح نہیں ہوئی۔علم کے معنوں میں لفظ یا ئیں اس آیت میں آیا ہے: وَ لَوْ آنَ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِعَتْ بِهِ الْأَرْضُ اَوْ كَلِمَ بِهِ الْمَوْتَى بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا أَفَلَمْ يَا يُسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا تُصِيبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةً أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِن دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِي وَعُدُ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (الرعد: ۳۲) اور اگر کوئی ایسا قرآن ہو جس کے ذریعے سے (بطور نشان ) پہاڑوں کو ان کی جگہوں سے ہٹا کر چلایا جائے یا اس کے ذریعہ سے زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جائے یا اس کے ذریعہ سے مردوں سے باتیں کرنے لگیں (تو کیا یہ لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے ؟ ہر گز نہیں، بلکہ ایمان لانے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔کیا جو ایمان لائے ہیں ابھی تک انہیں علم نہیں ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا۔جن لوگوں نے انکار کیا ہے انہیں ہمیشہ ہی ان کے عمل کی وجہ سے کوئی نہ کوئی سخت آفت پہنچتی رہے گی یا ان کے گھر کے قریب مصیبت نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا آخری وعدہ آجائے۔اللہ اس وعدے کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔(یعنی کامل فتح و غلبہ ) علامہ طبری نے تیست بمعنی علمت قبیلہ ہوازن کی زبان بتائی ہے۔بعض اور قبائل میں بھی یأس بمعنی علم بولا جاتا تھا۔سیم پر بوعی کا قول ہے : أَلَمْ تَيْأَسُوا أَنِّي ابْنُ فَارِيس زَهْدَهِ أَى لَمْ تُبَيِّنُوا۔کیا تمہیں ابھی تک پورے طور پر پر علم نہیں ہوا کہ میں سالار زھدم کا بیٹا ہوں۔اور امام ابن حجر نے ایک اور شاعر کا قول انہی معنوں میں نقل کیا ہے: ألم ييأس الْأَقْوامُ أَنِّي أَنَا ابْنُهُ وَإِن كُنتُ عَنْ أَرْضِ الْعَشِيرَةِ تَانِيَا کیا ابھی تک قوموں کو علم نہیں ہوا کہ میں ہی اس کا بیٹا ہوں۔گو میں قبیلے کے ملک سے بعید ہوں (لیکن بوجہ شہرت چھپ نہیں سکتا۔) فراء ادیب نے لفظ بیاس کا یہ مفہوم او پر اسمجھنے کے باوجود مذکورہ بالا آیت میں پیاس کا معنی علم تسلیم کیا ہے اور یہ توجیہہ کی ہے کہ مایوسی علم کا نتیجہ ہوتی ہے۔مایوس وہی ہوتا ہے جو علم رکھتا ہو کہ فلاں بات نہیں ہو گی۔مجاہد اور قتادہ نے افلم یاس کے معنی أَفَلَمْ يَعلَم ہی کئے ہیں اور طبری اور عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس سے اعلیٰ پائے کی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ وہ کبھی افلم یاس کی جگہ أَفَلَمْ يَتبين بھی پڑھا کرتے تھے، مگر معلوم ہوتا