صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 458
صحیح البخاری جلد ۱۰ لد ٧٥ ۶۵ - كتاب التفسير الرعد أمم لِتَتْلُوا عَلَيْهِمُ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِالرَّحْمَنِ قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ وَا مَتَاب (الرعد: ۳۱) اسی قسم کا انجام پانے کے لئے ہم نے تجھے ایک ایسی قوم میں بھیجا ہے جس سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں تا کہ تو ان لوگوں پر وہ کلام پڑھ کر سنائے جو ہم نے تیری طرف وحی کیا ہے۔ بحالیکہ وہ رحمٰن کا انکار کر رہے ہیں۔ تو کہہ وہ میرا رب ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اس کی طرف میرا رجوع ہے۔ أَفَلَمْ يَايُنَسِ : أَفَلَمْ يَتَبَيَّنَ کیا ابھی تک ظاہر نہیں ہوا یا نہیں کھلا ؟ ابو عبیدہ نے اس فقرے کا مفہوم أَفَلَمْ يَعْلَمُ وَيَتَبَین بیان کیا ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۳) یعنی ابھی تک انہیں علم نہیں ہوا یا اُن پر بات واضح نہیں ہوئی۔ علم کے معنوں میں لفظ یا یقیں اس آیت میں آیا ہے : وَ لَوْ أَن قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلَّمَ بِهِ الْمَوْتَى بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا أَفَلَمْ يَا يُشَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا تُصِيبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةً أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِي وَعْدُ اللَّهِ اللهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (الرعد: ۳۲) اور اگر کوئی ایسا قرآن ہو جس کے ذریعے سے (بطور نشان) پہاڑوں کو ان کی جگہوں سے ہٹا کر چلایا جائے یا اس کے ذریعہ سے زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جائے یا اس کے ذریعہ سے مردوں سے باتیں کرنے لگیں تو کیا یہ لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے ؟ ہر گز نہیں، بلکہ ایمان لانے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ کیا جو ایمان لائے ہیں ابھی تک انہیں علم نہیں ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا۔ جن لوگوں نے انکار کیا ہے انہیں ہمیشہ ہی ان کے عمل کی وجہ سے کوئی نہ کوئی سخت آفت پہنچتی رہے گی یا ان کے گھر کے قریب مصیبت نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا آخری وعدہ آجائے ۔ اللہ اس وعدے کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔ (یعنی کامل فتح و غلبہ ) علامہ طبری نے يئست بمعنی علمت قبیلہ ہوازن کی زبان بتائی ہے۔ بعض اور قبائل میں بھی یأس بمعنی علم بولا جاتا تھا۔ سحیم پر بوعی کا قول ہے : أَلَمْ تَيْأَسُوا أَنِّي ابْنُ فَارِسٍ زَهْدَمٍ أَنْ لَمْ تُبَيِّنُوا ۔ کیا تمہیں ابھی تک پورے طور پر علم نہیں ہے م نہیں ہوا کہ میں سالار زھدم کا بیٹا ہوں۔ اور امام ابن ۔ امام ابن حجر نے ایک اور شاعر کا قول انہی معنوں میں نقل کیا ہے: حجر نے أَلَمْ يَيْأَسِ الْأَقْوَامُ أَنِّي أَنَا ابْنُهُ وَإِن كُنتُ عَنْ أَرْضِ الْعَشِيرَةِ نَانِيًا کیا ابھی تک قوموں کو علم نہیں ہوا کہ میں ہی اس کا بیٹا ہوں۔ گو میں قبیلے کے ملک سے بعید ہوں (لیکن بوجہ شہرت چھپ نہیں سکتا۔) فراء ادیب نے لفظ بیاس کا یہ مفہوم اوپر سمجھنے کے باوجود مذکورہ بالا آیت میں بیاس کا معنی علم تسلیم کیا ہے اور یہ توجیہہ توجیہہ کی ہے کہ مایوسی علم کا نتیجہ ہوتی ہے۔ مایوس وہی ہوتا ہے جو علم رکھتا ہو کہ فلاں بات نہیں ہو گی۔ مجاہد اور قتادہ نے أَفَلَمْ يَايُنَسِ کے معنی أَفَلَمْ يَعْلَمُ ہی کئے ہیں اور طبری اور عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس سے اعلیٰ پائے کی سند کے ۔ سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ وہ کبھی اَفَلَمْ يَايْنَ کی جگہ أَفَلَمْ يَتَبَین بھی پڑھا کرتے تھے، مگر معلوم ہوتا