صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 457 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 457

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۵۷ ۶۵ -٢ كتاب التفسير / الرعد سب ان کا ہو جائے اور اس کے برابر اتنا اور بھی تو یہ سب مال عذاب سے بچنے کے لئے بطور فدیہ دے دیں ( تو بھی نہ بچ سکیں گے ) یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کا حساب نہایت برا ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت ہی بُری قرار گاہ ہے۔يد روون : يَدْفَعُونَ - بتاتے ہیں، دور کرتے ہیں۔دَرَأَتُهُ عَلَى دَفَعْتُهُ عَنی: میں نے اسے اپنے سے ہٹایا، دور کیا۔یہ معنی بھی ابو عبیدہ سے منقول ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۳) پوری آیت یہ ہے: وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا امَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَانْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَبِكَ لَهُم عُقْبَى الدَّارِ (الرعد: ۲۳،۲۲) اور وہ لوگ جو اُن تعلقات کو قائم کرتے ہیں جن کے قائم کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اپنے رب کا پاس رکھتے ہیں اور بُرے دن سے ڈرتے ہیں۔اور جنہوں نے اپنے رب کی رضا جوئی میں ثابت قدمی سے کام لیا اور نماز سنوار کر ادا کی اور جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے چھپا کر اور کھلے طور پر خرچ کیا اور نیکی کے ذریعہ سے بدی کو دور کرتے رہتے ہیں۔انہیں کے لئے انجام کار بہترین رہائش گاہ مقدر ہے۔سَلَامٌ عَلَيْكُم : یعنی وہ سلامتی کی دعا دیتے ہیں۔اس سے پہلے لفظ يَقُولُونَ محذوف بیان کیا جاتا ہے۔پوری آیت یہ ہے: جَنَّتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ آبَابِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَ الْمَلَبِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ (الرعد: ۲۴، ۲۵) مستقل رہائش کے باغات ہوں گے جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی نسلوں میں سے وہ بھی داخل ہوں گے جنہوں نے نیکی اختیار کی اور فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے۔(کہیں گے) تم پر سلامتی ہو۔کیونکہ تم ثابت قدم رہے سو کیا ہی اچھا عاقبت کا گھر ہے۔لفظ قول کا حذف دوسری جگہوں میں بھی بیان ہوا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے: وَ لَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُوا رُءُوسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا ابْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ (السجدة: ۱۳) اور اگر تو (وہ حالت دیکھے ) کہ جب مجرم اپنے رب کے سامنے سر ڈالے کھڑے ہوں گے۔(کہہ رہے ہوں گے کہ ) اے ہمارے رب! ہم نے جو کچھ تو نے کہا تھا دیکھ لیا اور سن لیا۔پس تو واپس لوٹا کہ ہم تیرے حکم کے مطابق ) نیک عمل کریں۔(اب) ہم تیری بات پر پوری طرح یقین کر چکے ہیں۔اس آیت میں ربَّنا سے پہلے يَقُولُونَ يا قَائِلِينَ محذوف بیان کیا جاتا ہے جس کا پتہ سیاق کلام سے چل جاتا ہے۔سابقہ آیت میں لفظ قول بصیغہ حال بھی ہو سکتا ہے۔يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّنْ كُلِّ بَابِ ( قَائِلِينَ) سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ، اور دوسری آیت میں يَقُولُونَ بصیغہ مضارع - آیت بِمَا صَبَرْتُم میں ما مصدر یہ ہے جو غل ماضی کو مصدر کے معنی میں تبدیل کر دیتی ہے۔یعنی بصیر گھر۔تمہارے صبر کی وجہ سے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۳) وَالَيْهِ مَأْبِ تَوْبَتي: یعنی اس کی طرف میرا رجوع ہے۔بخاری کے بعض نسخوں میں لفظ ماب کی بجائے مَتَاب ہے۔مَتَابِ مصدر تَابَ يَتُوبُ سے ہے۔پوری آیت یہ ہے : كَذلِكَ اَرْسَلْنَكَ فِي أُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَا -