صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 456 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 456

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۵۶ ۶۵ - كتاب التفسير الرعد لکھا ہے محال میم کی زیر کے ساتھ اصل میں قوت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مکر اور حیلہ کا معنی ضمنی ہے۔ بعض نے محال کو چیلہ سے مشتق بیان کیا ہے۔ اُن کے نزدیک میم زائدہ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۲) رابيا : رَبَا، يَرْبُو ، رَبُوا سے اسم فاعل ہے۔ انتفع یعنی پھول کر او پر آگیا۔ زبدا ا ر ا بیا : جھاگ جو سطح آب پر اُبھر آئے۔ دنیا کی پونجی بھی جھاگ کی طرح ہے۔ فائدہ اٹھانے کے بعد زائل ہو جاتی ہے۔ پوری آیت یہ ہے : انزل مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَابِيًّا وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعِ زَبَدُ مِثْلُهُ كَذلِكَ يَضْرِبُ اللهُ الْحَقِّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الأَمْثَالَ (الرعد: (۱۸) اس نے آسمان سے پانی اتارا ہے جس سے کئی وادیاں اپنے اپنے اندازہ کے مطابق بہہ پڑیں اور سیلاب نے اوپر آجانے والی جھاگ کو اٹھا لیا اور ویسی ہی جھاگ ان چیزوں سے بھی پیدا ہوتی ہے جنہیں زیور یا کوئی اور سامان بنانے کی غرض سے آگ میں تپاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ جو جھاگ ہوتی ہے تو وہ خشک ہو جاتی ہے اور جو لوگوں کو نفع دیتا ہے تو وہ زمین میں ٹھہرے رہتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی مثالیں بیان کرتا ہے (کہ حق و باطل کے درمیان فرق معلوم ہو)۔ جُفَاء : کہتے ہیں جَفَا الْوَادِي وَأَجْفَی - نَشَفَ یعنی خشک ہو گئی۔ اور کہتے ہیں: أَجْفَاتِ الْقِدْرَ - ہانڈی نے ابلتے وقت جھاگ پھینک دی اور ساکن ہو گئی۔ یعنی اس کا جوش و خروش جاتا رہا اور جھاگ رائیگاں گئی ۔ حق و باطل کی بھی یہی مثال ہے کہ باطل حق کے مقابلہ میں جوش و خروش دکھاتا ہے لیکن جلد ہی اس کا جوش و خروش جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ روبہ بن عجاج نے آیت فَأَما الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء کو اس طرح بھی پڑھا ہے : فَيَذْهَبُ جُفَالًا ۔ کہتے ہیں : أَجَفَلَتِ الرِّيحُ الْغَيْمَ إِذَا قَطَعَتْهُ کہ ہوانے بادل کو ٹکڑے کر کے بکھیر دیا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۳) علامہ عینی کے نزدیک مذکورہ بالا مثال سے مراد یہ ہے کہ جھاگ باقی رہ جاتی ہے جو زمین کی زرخیزی میں کار آمد ہوتی ہے۔ یہی حال حق کا ہے کہ وہ نفع بخش ہونے کی وجہ سے دنیا میں باقی رہتا ہے لیکن باطل کو اس کے مقابلہ میں کوئی پائیداری نہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۳۱۱) غرض آیت میں تین مثالیں دی گئی ہیں۔ ایک مثال سیلاب کے جھاگ کی جو زر خیزی میں محمد ہوتی ہے۔ دوسری مثال سونا چاندی اور دیگر دھاتوں سے سامان بنانے میں جو تلچھٹ باقی رہتی ہے وہ ضائع ہو جاتی ہے۔ تیسری مثال ہانڈی کے ابال کی۔ ان تینوں مثالوں سے حق و باطل کے مابین فرق نمایاں کیا گیا ہے۔ الْمِهَادُ الْفِرَاش: بچھونا ، گہوارہ ۔ ابو عبیدہ نے یہ معنی کئے ہیں۔ لے جس آیت میں یہ لفظ آیا ہے وہ یہ ہے: لِلَّذِینَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنَى وَالَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُ لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَ مِثْلَهُ مَعَهُ لَا فَتَدَوْا بِهِ أولَئِكَ لَهُمْ سُوءُ الْحِسَابِ وَمَا وَلَهُمْ جَهَنَّمُ وَبي وَمَا وَلَهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ (الرعد: (۱۹) ۱۹) جن لوگوں نے اپنے رب کی بات مانی ان کے لئے بہترین بدلہ ہے اور جنہوں نے اس کا کہا نہیں مانا ( ان کی یہ حالت ہو گی کہ ) جو کچھ بھی زمین میں ہے اگر ا (مجاز القرآن، تفسير سورة الرعد، آیت لِلَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنى، جزء اول صفحه ۳۲۹)