صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 455 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 455

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۵۵ ۶۵ - كتاب التفسير الرعد کے تقابل سے مفہوم واضح ہیں۔ یعنی بعض نطفے بڑھتے بڑھتے پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں اور بعض ناتمام رہتے اور ضائع ہو جاتے ہیں۔ ان کی تکمیل و تنقیص کا دارو مدار رحموں کی صلاحیت یا عدم صلاحیت پر ہے۔ یہی حال قوموں کی ہدایت، اصلاح اور ضلالت و گمراہی کا۔ الت و گمراہی کا ہے۔ اِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرُ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادِه (الرعد: ۸) ' ان کی ہا ان کی ہدایت یا ضلالت کا انحصار اس بات پر ہے کہ انہوں نے حق کو کہاں تک قبول یا رڈ کیا ہے۔ یہ مضمون ہے سورہ رعد کی محولہ آیات کا۔ علامہ طبری نے مقدار کے معنی قتادہ سے اَجَل مَعْلُوم نقل کئے ہیں ۔ کے ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۷۲) یعنی ہر شے ایک مقررہ میعاد تک کام دیتی ہے۔ علامہ عینی نے حضرت ابن عباس سے مقدار کا مفہوم تقدیر الہی نقل کیا ہے جس سے کوئی شے آگے پیچھے یا گھٹ بڑھ نہیں سکتی۔ ان کے الفاظ یہ ہیں: كُلُّ شَيْءٍ مِمَّا يَكُونُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ وَكُلَّمَا هُوَ كَائِنَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ( عمدة القاری جزء ۱۸ صفحہ ۳۱۰) ہر شے وجود میں آنے سے قبل اللہ کی تقدیر میں ہوتی ہے۔ ایسا ہی ہر وہ شے جو قیامت تک آئندہ ہونے والی ہے اس کا بھی تقدیر الہی احاطہ کئے ہوئے ہے۔ مُعَقِّبْتُ : مَلَائِكَةٌ حَفَظَةً - حفاظت کرنے والے ملائکہ ۔ عقب کے معنی ہیں ایک دوسرے کے پیچھے آنا۔ تعقيب مصدر سے اسم فاعل معقب مذکر ہے اور مُعَقِّبَةُ مونث ہے اور اس سے فعیل وزن پر عقیب ہے یعنی پیرو۔ مُعَقِبُونَ جمع مذکر اور مُعَقِبَات جمع مؤنث ہے۔ فرماتا ۔ ہے۔ فرماتا ہے : لَهُ مُعَقِبَتْ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللهِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالِ (الرعد: (۱۲) اس (رسول کے) آگے اور پیچھے پے درپے (ملائکہ کی ایک جماعت) ہے جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اللہ کبھی بھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنے نفسوں میں تبدیلی نہ کرے۔ اور جب اللہ کسی قوم کی سزا کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سزا کو ہٹانے والا کوئی نہیں ہوتا اور نہ اس کے مقابل ان کا کوئی مدد گار ہوتا ہے۔ الْمِحَالِ : الْعُقُوبَة - يہ معنی ابو عبیدہ سے مروی ہیں ہے اور بسند ابن ابی نجیح ۔ مجاہد سے شَدِيدُ الْمِحَالِ کے معنى شَدِيدُ الْقُوَّة ( زبردست) مروی ہیں۔ قتادہ اور سدی سے بھی یہی مروی ہیں۔ محل کے معنی مکر اور حیلہ ہیں لیکن وہ مکر نہیں جو اُردو میں استعمال ہوتا ہے بلکہ تدبیر کے معنوں میں، فرماتا ہے : وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ ۚ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللَّهِ ۚ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ (الرعد: ۱۴) بادل کی کڑک، اس کی حمد کے ساتھ ساتھ اس کی پاکیزگی کا اظہار بھی کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے یہی تسبیح و تحمید کرتے ہیں اور وہ بجلیاں گراتا ہے۔ ان کے ذریعہ سے پھر جس کو چاہتا ہے نفع و نقصان دیتا ہے نہ ے اور وہ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں بحالیکہ وہ نہایت قوی ہے۔ امام ابن حجر نے یہ حوالے نقل کرنے کے بعد ↓ حضرت خليفته المسيح الرابع : " يقينا تو محض ایک ڈرانے والا ہے اور ہر قوم ۔ قوم کے لئے ایک ترجمه حضر راہنما ہوتا ہے۔“ (جامع البيان للطبری، تفسير سورة الرعد، آیت وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ ، جزء ۱۳ صفحه ۴۵۲) (مجاز القرآن لابي عبيدة، تفسير سورة الرعد، آیت وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ ، جزء اول صفحه ۳۲۵)