صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 454
صحیح البخاری جلد ۱۰ b ۴۵۴ ۲۵ - کتاب التفسير / الرعد بِبَالِيهِ وَمَا دُعَاءُ الكَفِرِينَ إِلا في ضَلل (الرعد: ۱۵) اس کو پکارنا بر حق ہے ( ایسی پکار ہے جو نہیں ملتی ) اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کا کوئی جواب نہیں دیتے۔ان کا یہ فعل ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے رکھے تاکہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ پانی کبھی اس تک نہیں پہنچے گا اور کافروں کی چیخ و پکار ہمیشہ رائیگاں جاتی ہے۔یہاں مشرکین کی غیر اللہ کو پکارنے کی مثال دے کر سمجھایا گیا ہے کہ وہ رائیگاں جاتی ہے۔وَقَالَ غَيْرُهُ مُتَجَاوِرَاتٌ : ابو عبیدہ نے سورہ رعد کی آیات ۳ تاے کی تشریح بیان کرتے ہوئے وفی الْأَرْضِ قطع مُتَجُورت کے معنی مُتَدَانيات نقل کئے ہیں۔یعنی ایک دوسرے کے قریب قریب قطعات واقع ہیں۔اور سَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ میں لفظ سکھر کے معنی ذلل بتائے ہیں۔یعنی اس نے سورج وچاند وغیرہ کو مطیع بنایا، خدمت میں لگا دیا۔جیسا کہ سورہ ملک کی آیت نمبر ۱۶ میں لفظ تسخیر کے انہی معنوں میں زمین کو ذلولا کہا گیا ہے۔فرماتا ہے : هُوَ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولاً یعنی وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے مطیع بنایا، جو خدمت کر رہی ہے۔پھر سورہ رعد کی آیت نمبرے وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالشَّيْئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثلتُ - میں المثلث جمع ہیں مَثْلَةٌ کی۔وَهِيَ الْأَشْبَاهُ وَالْأَمقَال یعنی یہ مشابہ امثال ہیں ، مراد نمونہ ہائے عبرت ہیں۔مُثْلَةٌ اسے بھی کہتے ہیں جس کے ناک، کان، ہاتھ اور پاؤں بطور سزا کٹے ہوں تا لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلِ انْظُرُوا مَا ذَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا تُغْنِي الْأَيْتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَا يُؤْمِنُونَ فَهَلْ يَنتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِهِمْ قُلْ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنتَظِرِينَ (یونس: ۱۰۲ ۱۰۳) کہو : آسمانوں اور زمین میں دیکھو اور غور کرو ( کہ کیا کچھ ہو رہا ہے ) اور نشانات اور ڈرانے والی خبریں ان لوگوں کو فائدہ نہیں دیتیں جو ایمان نہ لائیں۔تو پھر وہ کیا یہی انتظار کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے ایام دیکھیں جو ان سے پہلے گزر چکے؟ کہو اچھا (پھر انہی کے نمونہ کا انتظار کرو۔میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔بمقدار : بِقَدَرٍ۔یعنی اندازہ کے ساتھ۔فرماتا ہے: اللهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ انْثَى وَمَا تَغِيضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ O (الرعد: 9) اللہ ہی جانتا ہے اسے بھی جو ہر مادہ (اپنے رحم میں) ٹھہراتی ہے اور جسے رحم اُدھورا چھوڑ دیتے ہیں اور جسے وہ بڑھاتے ہیں اور ہر چیز اس کے پاس اندازہ کے مطابق ہے۔ظلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الكَبِيرُ المُتَعَالِ (الرعد: ١٠) پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے۔بہت بلند مرتبہ اور بڑی شان والا ہے۔اس آیت میں بلاغت ہے اور الفاظ تَغِيضُ وَ تَزْدَاد کے تقابل و تضاد سے معانی میں وسعت پیدا کی گئی ہے۔اس سورۃ کے آخری باب میں یہ آیت دہرائی گئی ہے جہاں تغیض کے معنی نا تمام بتائے گئے ہیں۔جو مَا تَزْدَادُ (مجاز القرآن لابي عبيدة ، تفسير سورة الرعد، آیت وَ في الْأَرْضِ قطع منجورت ، جزء اول صفحہ ۳۲۲) ترجمه حضرت خليفته المسیح الرابع : ” اور وہ تجھ سے بدی کو بھلائی سے پہلے جلد تر طلب کرتے ہیں جبکہ ان سے پہلے بہت سی عبرتناک مثالیں گزر چکی ہیں۔“ المراة