صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 453 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 453

صحیح البخاری جلد ۱۰ يَدْعُو ۴۵۳ ۲۵ - کتاب التفسير / الرعد الْمَاءَ بِلِسَانِهِ وَيُشِيرُ إِلَيْهِ بِيَدِهِ زبان سے پانی کو بلائے اور اپنے ہاتھ سے اسے فَلَا يَأْتِيهِ أَبَدًا سَالَتْ اَودِيَةٌ بِقَدَرِهَا اشارہ کرے (کہ میرے پاس آ) مگر وہ اس کے (الرعد: ۱۸) تَمْلَأُ بَطْنَ وَادٍ، زَبَدًا پاس کبھی نہیں آتا۔سَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا سے ری مراد ہے وادی اپنے ظرف کے مطابق بھر گئی رابيا (الرعد: ۱۸) زَبَدُ السَّيْلِ زَبَدُ (اور بہہ نکلی۔) زبد ا را بیا سے مراد ہے سیلاب مثْلُه (الرعد: ١٨) خَبَثُ الْحَدِيدِ وَالْحِلْيَةِ۔تشریح کے اوپر جھاگ۔زبد مثْلُه سے مراد لو ہے اور زیور کی میل ہے۔كباسط كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ: حضرت ابن عباس نے کہا: آیت کباسِطِ كَفَيْهِ میں مشرک کی مثال دی گئی ہے جو شریک باری تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے اور اس سے حاجت براری چاہتا ہے۔یہ مشرک اپنے بتوں کے سامنے بے فائدہ ہاتھ پھیلائے رکھتے ہیں جیسے کوئی پیاسا پانی کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور خواہش کرے کہ پانی خود بخود اس کے منہ میں پہنچ جائے۔وَمَا هُوَ بِبالِغہ اور وہ پانی اس تک پہنچنے کا نہیں۔اس کا مفہوم اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ اپنے وہم کے زیر اثر دور پانی دیکھ رہا ہوتا ہے اور اگر اسے پکڑنا چاہے تو پکڑ نہ سکے۔اس آیت کا سیاق یہ ہے : لَه دَعْوَةُ الْحَقُّ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُمُ بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى المَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ وَمَا دُعَاءِ الْكَفِرِينَ إِلا فِي ضَلل (الرعد: (۱۵) اسی کو پکارنا برحق ہے (ایسی پکار ہے جو نہیں ملتی ) اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کا کوئی جواب نہیں دیتے۔ان کا یہ فعل ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے رکھے تاکہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ پانی کبھی اس تک نہیں پہنچے گا اور کافروں کی چیخ و پکار ہمیشہ رائیگاں جاتی ہے۔آیت كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ (الرعد: ۱۵) کا مفہوم ابو عبیدہ کے نزدیک یہ ہے کہ وہ اس غرض سے ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہے لیقبِضَ عَلَى الْمَاءِ کہ پانی کو حاصل کرے۔وَمَا هُوَ بِبَالِغہ اور وہ اس کے منہ میں نہیں پہنچتا۔اس مفہوم کو واضح کرنے کے لئے ضائی بن حارث کے قول کا حوالہ دیا ہے: ۖ وَإِلى وَإِيَّاكُمْ وَشَوْقاً إِلَيْكُمْ تقابضِ مَاءٍ لَمْ تُسِقُهُ أَنامِلُهُ یعنی میری اور تمہاری مثال اس شوق میں جو مجھے تمہارے متعلق ہے، اس انسان کی سی ہے جو پانی حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اس کی انگلیاں پانی پہنچانے پر قادر نہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۷۳،۴۷۲) آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب تک انسان کسی چیز کے حاصل کرنے کے لئے صحیح کوشش نہیں کرتا اس پر کامیاب نہیں ہو تا۔یادر ہے کہ پانی کی مثال اس لئے دی گئی ہے کہ یہ منبع حیات ہے۔زندگی کا اس پر دارو مدار ہے اور خد اتعالیٰ سے اتصال میں بھی انسان کی زندگی ہے۔کیونکہ ذات باری تعالی سرچشمہ حیات ہے۔پوری آیت یہ ہے: لَه دَعْوَةُ الْحَقِّ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ