صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 452 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 452

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۵۲ ۶۵ - كتاب التفسير الرعد فَكَذَلِكَ يُمَيِّزُ الْحَقُّ مِنَ بے فائدہ ہو گئی۔ اسی طرح وہ حق کو باطل سے الْبَاطِلِ الْمِهَادُ (الرعد: ۱۹) الْفِرَاسُ ممتاز کرتا ہے۔ الْمِهَادُ کا مطلب ہے بچھونا۔ يَدْرَءُونَ (الرعد: ٢٣) يَدْفَعُونَ، دَرَأَتُهُ يَدْرَءُونَ کے معنی ہیں وہ دور کرتے ہیں۔ دَرَأَتُهُ۔ دَفَعْتُهُ۔ سَلامُ عَلَيْكُمْ (الرعد: ٢٥) أَيْ یعنی میں نے اُسے اپنے سے ہٹایا۔ سَلامُ عَلَيْكُمْ ۔ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ وَإِلَيْهِ مَابِ یعنی وہ کہیں گے تمہارے لیے سلامتی ہو۔ وَ الَیهِ (الرعد: ٣٧) تَوْبَتِي أَفَلَمْ مَابِ یعنی میر ارجوع اسی کی طرف ہے۔ اَفَلَمْ يايس (الرعد: ۳۲) لَمْ يَتَبَيَّنْ يَاسِ کے معنی ہیں کیا (ابھی تک) ظاہر نہیں قَارِعَة (الرعد: ٣٢) دَاهِيَةٌ فَأَمْلَيْتُ ہوا ؟ قَارِعَہ کا معنی ہے تباہ کن نا گہانی مصیبت ۔ (الرعد: ٣٣) أَطَلْتُ، مِنَ الْمَلِي فَامْلَيْتُ کے معنی ہیں میں نے مہلت دی۔ یہ وَالْمِلَاوَةِ، وَمِنْهُ مَلِيًّا (مریم : ٤٧) مَلی اور ملاوۃ سے ہے۔ اور اسی سے مليًّا ہے، وَيُقَالُ لِلْوَاسِعِ الطَّوِيلِ مِنَ الْأَرْضِ، یعنی چھوڑ دینا۔ لمبے چوڑے قطعہ زمین کو بھی منگی مَلَى مِنَ الْأَرْضِ۔ أَشَقُّ (الرعد: ٣٥) (الرعد: ٣٥) کہتے ہیں۔ آشق مشقت سے ہے، یعنی شدید۔ أَشَدُّ مِنَ الْمَشَقَّةِ مُعَقِبَ (الرعد: ٤٢) مُعَقِبَ : یعنی تبدیل کرنے والا ۔ مُغَيِّر۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ مُتَجَاوِرَاتٌ طَيِّبُهَا اور مجاہد نے کہا: مُتَجَاوِرَات سے مراد ہے اچھے وَخَبِيتُهَا السِّبَاخُ صِنْوَان (الرعد: ٥) اور رڈی شورہ زمین کے ٹکڑے جو پاس پاس واقع النَّخْلَتَانِ أَوْ أَكْثَرُ فِي أَصْلٍ وَاحِدٍ یں۔ صنوان سے مراد ایسی دو یا زیادہ بھجوریں ہیں وَغَيْرُ صِنْوَان (الرعد: ٥) وَحْدَهَا ۔ سے جو ایک ہی جڑ سے پھوٹیں اور غَيْرُ صِ صِنْوَانِ مراد وہ جو اکیلی اکیلی اُگیں۔ بِمَاءِ وَاحِدٍ سے مراد بمَاءِ وَاحِدٍ (الرعد:٥) كَصَالِحٍ بَنِي ہے آدم کی ذریت میں سے صالح اور بد بختوں کی آدَمَ وَخَبِيثِهِمْ أَبُوهُمْ وَاحِدٌ السَّحَابَ مانند ، جن کا باپ ایک ہی ہے۔ السَّحَابَ الثَّقَالَ الثَّقَالَ (الرعد: ١٣) الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ یعنی بوجھل بادل جس میں پانی ہو۔ گباسط كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ (الرعد: ١٥) كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ - یعنی ( اس شخص کی مانند ) جو 1 فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں ” وَ إِلَيْهِ مَتَاب“ (الرعد: ۳۱) ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۴۷۰)