صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 450 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 450

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۴۵۰ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف ٤٦٩٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۴۶۹۶ ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے زہری سے روایت عُرْوَةُ فَقُلْتُ لَعَلَّهَا كُذِبُوا مُخَفَّفَةً کی، کہا: مجھے عروہ نے بتایا کہ (انہوں نے کہا:) میں نے (حضرت عائشہ سے) کہا کہ ہو سکتا ہے یہ قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ نَحْوَهُ۔أطرافه: ۳۳۸۹، ٤٥٢٥، ٤٦٩٥۔كُذِبُوا ہو ، تخفیف کے ساتھ۔تو انہوں نے کہا: معاذ اللہ۔ريح : حَتَّى إِذَا اسْتَيْتَسَ الرُّسُلُ : اسْتَيَأْس يَئِسَ سے باب اِسْتَفْعَل ہے۔اس کا معنی وہی ہے جو یٹس کا ہے، یعنی مایوس ہو گیا۔جیسے عجب اور استعجب معنی کی رُو سے ایک ہی ہیں ، سوا اِس کے کہ اس میں معنی کی زیادتی پائی جاتی ہے۔مبالغہ مقصود ہو تو است فعال باب کا وزن بعض اوقات اختیار کیا جاتا ہے۔جیسا کہ علامہ زمخشری وغیرہ نے ان صیغوں کے فرق کو بیان کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۶۶) پوری آیت حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنْجِيَ مَنْ تَشَاءُ ۖ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ یہ ہے: الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ (یوسف:111) اور جب (ایک طرف تو رسول (ان کی جانب سے ) نا امید ہو گئے اور ( دوسری طرف) ان (منکروں) کا (یہ) پختہ خیال ہو گیا کہ ان سے ( وحی کے نام سے ) جھوٹی باتیں کی جارہی ہیں تو (اس وقت) ان (رسولوں) کے پاس ہماری مدد آگئی۔اور جنہیں ہم بچانا چاہتے تھے (انھیں) بچالیا گیا۔اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب ( ہرگز ) نہیں ہٹایا جاتا۔اس آیت کے سمجھنے میں بھی غلط فہمی پیدا ہوئی ہے اور خیال کیا گیا ہے کہ استَيْتَسُوا اور ظنُّوا کا فاعل رسول ہی ہیں۔استیقس کا فاعل تو وہ ہو سکتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کے ایمان لانے سے ناامید ہو گئے۔لیکن ظنُّوا کا فاعل وہ نہیں بلکہ منکر ہیں۔حضرت عائشہ نے جب مندرجہ بالا مفہوم سناتو انہوں نے کہا: معاذاللہ یہ صحیح نہیں ، اور بتایا کہ ایسا خیال کرنے والے رسولوں کے پیرو ہیں کہ جب انہوں نے دیکھا کہ نصرت الہی میں تاخیر ہو رہی ہے تو وہ گبھرائے اور خیال کرنے لگے کہ جو اُن سے وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا اور مومن بھی سمجھنے لگے کہ وحی سمجھنے میں انہیں غلطی لگی ہے اور انہیں طرح طرح کے شبہات گزرنے لگے ، اور کفار کو بھی یقین ہو گیا کہ رسول کی انذاری پیشگوئیاں خالی دھمکی ہی تھیں۔فرماتا ہے : ایسی حالت میں اچانک ہمارا عذاب آیا اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہو گیا۔غرض ایسے ہی ناموافق حالات میں انبیاء کی شان کا علم ہوتا ہے اور ان کی خارق عادت باتوں کی حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ ان کا کلام انسانی ساختہ پر داختہ نہیں بلکہ الہی سر چشمہ سے نکلا ہوا ہے اور ان کے ساتھ جو غیر معمولی سلوک ہوتا ہے اس میں الہی اور ملکی تصرفات کام کر رہے ہوتے ہیں۔یہ صورت حال دیکھ کر لوگوں کا ایمان باللہ زندہ اور مضبوط ہو کر اس قابل ہوتا ہے کہ حرکت عمل میں جان پیدا کرے۔