صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 449
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۴۴۹ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا۔رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَهُ وَهُوَ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى حَتَّى إِذَا تعالٰی کے اس قول کے متعلق پوچھا: یہاں تک کہ اسْتَيْسَ الرُّسُلُ (يوسف: ۱۱۱) قَالَ جب رسول نااُمید ہو گئے۔عروہ نے کہا: میں نے قُلْتُ أكذِبُوا (يوسف: (۱۱۱) أَمْ كُذِبُوا پوچھا کہ اس آیت میں کذِبُوا ہے یا كُذِبُوا؟ قَالَتْ عَائِشَةُ كُذِبُوْا قُلْتُ فَقَدْ حضرت عائشہ نے فرمایا: کیا ہوا ہے یعنی انہیں جھٹلایا گیا۔میں نے کہا: انہیں تو یقین تھا کہ ان کی اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ فَمَا هُوَ قوم نے انہیں جھٹلایا ہے اور یہ صرف گمان نہیں بِالظَّنِ قَالَتْ أَجَلْ لَعَمْرِي لَقَدْ تھا۔انہوں نے فرمایا: بے شک انہیں اس کا یقین اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ فَقُلْتُ لَهَا وَظَنُّوا بِرَبِّهَا ہو و چکا تھا۔میں نے اُن سے کہا: شاید اس آیت أَنَّهُمْ قَد كُذِبُوا (يوسف:۱۱۱) قَالَتْ میں کذِبُوا ہو۔یعنی ان سے جھوٹے وعدے مَعَاذَ اللَّهِ لَمْ تَكُن الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ کئے گئے۔حضرت عائشہ کہنے لگیں: معاذ اللہ ! قُلْتُ فَمَا هَذِهِ الْآيَةُ قَالَتْ هُمْ رسول ایسے نہیں ہوتے کہ اپنے رب پر یہ گمان أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ کریں۔میں نے کہا: پھر اس آیت کے کیا معنی وَصَدَّقُوهُمْ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلَاءُ ہیں؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: یہ گمان کرنے وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ حَتَّى إِذَا والے رسولوں کے پیرو ہیں جو اپنے ربّ پر اسْتَيْسَ الرُّسُلُ (يوسف: ۱۱۱) مِمَّنْ ایمان لائے اور ان رسولوں کو سچا سمجھا اور ان كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ وَظَنَّتِ الرُّسُلُ کی آزمائش دیر تک ہوتی رہی اور اُن کو مدد پہنچنے أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ قَدْ كَذَّبُوهُمْ جَاءَهُمْ میں دیر ہو گئی۔یہاں تک کہ جب رسول اپنی قوم کے ان لوگوں سے بالکل نا اُمید ہو گئے جنہوں نَصْرُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ۔نے انہیں جھٹلایا تھا اور رسولوں نے یہ خیال کیا کہ ان کے پیروؤں نے بھی انہیں جھوٹا قرار دے دیا ہے تو اس وقت اللہ کی مدد اُن کو پہنچی۔أطرافة ۳۳۸۹، ٤٥٢٥، ٤٦٩٦۔