صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 448
صحيح البخاری جلد ۱۰ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْبِنَ قَلْبِي۔۴۴۸ ۲۵ - کتاب التفسير / يوسف ہیں جب اس نے اس سے کہا: کیا تو ایمان نہیں (البقرة: ٢٦١) لاچکا؟ (ابراہیم نے) کہا: کیوں نہیں۔(ایمان تو بے شک حاصل ہو چکا ہے ) لیکن اپنے اطمینان قلب کی خاطر (میں نے یہ سوال کیا ہے۔) أطرافه: ۳۳۷۲ ۳۳۷۵، ۳۳۸۷، ٤٥٣٧، ٦٩٩٢ - تشريح۔فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجع إلى رَبِّكَ: عاش اور حالما تنزیہی الفاظ ہیں جو برات کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔جیسے معاذ اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ اس سے بالا ہے۔اس لفظ کی قرآت میں بھی اختلاف ہے۔بعض نے خاشی ( یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔( ابو عبیدہ کی قرآت میں صرف ش مفتوحہ ہے۔زبان عربی میں حاشی بھی کہتے ہیں، جیسے ایک شاعر کا قول ہے: حاشی أَبِي تَوَبَانَ إِنَّ بِهِ ضَمْنًا۔ابو ثو بان اس سے بلند و بالا ہے کہ اس پر کوئی بوجھ ہو۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۶۵ ) (عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحه ۳۰۷) حَصْحَصَ الْحَقُّ : وَضَعَ الْحَق وتبين حق واضح ہو گیا، کھل گیا۔خلیل محوی کے نزدیک یہ لفظ حصّہ سے مشتق ہے جس کے معنی کٹ جانے کے ہیں۔حصّة کے معنی قطعه اور حَصْحَصَ ایسے ہی ہے، جیسے کف سے گفگف۔ظَهَرَتْ حِصَّةُ الْحَقِّ مِنْ حِضَةِ الْبَاطِلِ۔یعنی حق کا حصہ باطل حصہ سے واضح ہو گیا۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۶۵ ) لفظ حاش اور حَصْحَصَ دونوں اس آیت میں آئے ہیں: قَالَ مَا خَطَبُكُنَ إِذْ رَاوَدُثْنَ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلهِ مَا عَلِيْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَاتُ الْعَزِيزِ الْنَ حَصْحَصَ الْحَقِّ أَنَا رَاوَدُتُه عَنْ نَفْسِهِ وَ إِنَّهُ لَمِنَ الصدِقِينَ (یوسف: ۵۲ ) ( یہ پیغام سن کر) اُس نے (یعنی بادشاہ نے ) اُن (عورتوں) سے کہا: (کہ) تمہارا (وہ) معاملہ جبکہ تم نے یوسف سے اس کی مرضی کے خلاف (ایک برا) فعل کروانے کی کوشش کی تھی۔(اصل میں) کیا تھا؟) انہوں نے کہا کہ وہ اللہ کی خاطر (بدی کے ارتکاب سے) ڈرا تھا۔( اور ) ہم نے اُس میں کوئی بھی بُرائی ( کی بات) نہیں معلوم کی تھی۔( یہ سن کر) عزیز کی بیوی نے کہا کہ اب سچائی بالکل کھل گئی ہے۔میں نے (ہی) اس سے اس کی مرضی کے خلاف (برا) فعل کرانے کی کوشش کی تھی۔اور وہ یقینا راستبازوں میں سے ہے۔حاشَ لِلہ کا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے : معاذ اللہ۔( یعنی اللہ کی پناہ) اور پھر ماضی کے طور پر بھی اس کا ترجمہ کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اوپر کیا گیا ہے۔حدیث زیر باب کی مزید تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب احادیث الانبیاء باب ۱۱ (روایت نمبر ۳۳۷۲) جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام ولوط علیہ السلام کے ذکر میں یہی روایت الگ سند سے نقل کی گئی ہے۔باب ٦ : حَتَّى إِذَا اسْتَيْسَ الرُّسُلُ (يوسف: ۱۱۱) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور جب (ایک طرف تو ) رسول ( ان کی جانب سے ) نااُمید ہو گئے ٤٦٩٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزيزِ بْنُ :۴۶۹۵ : عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے