صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 447
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۴۷ ۲۵ - کتاب التفسير / يوسف بابه : فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعُ إِلى رَبِّكَ فَسْئَلُهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ التِي قَطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ قَالَ مَا خَطْبُكُنَ إِذْ رَا وَدُتُّنَ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ (يوسف: ٥٢،٥١) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) پس جب ( بادشاہ کا پیغام رساں اس کے پاس آیا تو اس نے (یعنی یوسف نے اس سے ) کہا (کہ) تو اپنے آقا کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ جن عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے ان کی (اس وقت) کیا کیفیت ہے۔ میر ارب ان کے منصوبے کو یقیناً خوب جاننے والا ہے۔ ( یہ پیغام سن کر ) اس نے (یعنی بادشاہ نے) ان (عورتوں) سے کہا (کہ) تمہارا (وہ) معاملہ جبکہ تم نے یوسف سے اس کی مرضی کے خلاف ( ایک برا ) فعل کروانے کی کوشش کی تھی (اصل میں ) کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ وہ اللہ کی خاطر ( بدی کے ارتکاب سے ) ڈرا تھا۔ وَحَاشَ وَحَاشَى تَنْزِيةٌ وَاسْتِثْنَاءُ حَاشَ اور حَاشَی تنزیہ اور استثناء کے معنی میں حَصْحَصَ (يوسف: ٥٢) وَضَحَ ۔ ہے۔ حَصْحَصَ کا مطلب ہے واضح ہو گیا۔ ٤٦٩٤ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ ۴۶۹۴: سعيد بن تلید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عبد الرحمن بن قاسم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بَكْرِ بْنِ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بکر بن مضر سے، بکر نے عمرو بن حارث سے، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عمرو نے یونس بن یزید سے، یونس نے ابن شہاب عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ سے ، ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بن عبد الرحمن سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ لوط پر رحم لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ کرے وہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لینا چاہتے وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ تھے۔ اور اگر میں قید خانہ میں اتنا عرصہ رہتا جتنا يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ وَنَحْنُ أَحَقُّ کہ یوسف رہے تو جو بلانے والا شخص آیا تھا میں اس مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لَهُ : أَوَلَمْ تُؤْمِنُ کی بات مان لیتا۔ اور ہم ابراہیم سے زیادہ حقدار