صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 25
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قِيْلَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ تم دروازہ سے فرمانبرداری سے داخل ہو جانا اور حطة (البقرة : ۵۹) فَدَخَلُوا يَزْحَفُونَ یہ دعائیں کرتے جانا کہ گناہ دور ہوں (یعنی عَلَى أَسْتَاهِهِمْ فَبَدَّلُوا وَقَالُوا حِطَّةٌ استغفار کرتے جانا) مگر وہ اپنے سرین کے بل حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ۔ رینگتے ہوئے داخل ہوئے اور استغفار کا حکم تبدیل کر دیا اور حصہ کی جگہ کہنے لگے ، وہ دانے جو بالی کے اندر ہیں۔ أطرافه: ٣٤٠٣، ٤٦٤١ إِذْ تشريح : وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ : سورۃ البقرۃ کی اس آیت ( نمبر ۵۹) میں لفظ رغدا جو وارد ہوا ہے اس کے معنی ہیں واسعًا كَثِيرًا - اس بستی میں رزق کی بہتات ہے۔ یہ تفسیر ابو عبیدہ کی ہے، کہتے ہیں قَدْ أَرْغَدَ فُلَانٌ إِذَا أَصَابَ عَيْشًا وَاسِعًا كَثِيرًا - فلاں کو کھانے پینے وغیرہ کا سامان زندگی بہت ملا۔ حضرت ابن عباس سے بھی وسعت رزق کے معنی مروی ہیں۔ طبری نے مذکورہ بالا معنوں کے علاوہ رغدا کے معنی هَنِيئًا (خوشگوار ) بھی نقل کئے ہیں اور انہوں نے مجاہد سے بلا حساب بھی روایت کئے ہیں۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۶) اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے بجائے استغفار اور اطاعت الہی اور متانت اختیار کرنے کے احکام الہی کا مذاق اڑایا اور گستاخ ہو گئے۔ بَاب ٦ : قَوْلُهُ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ (البقرة : ٩٨) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جو بھی جبرائیل کا دشمن ہے وَقَالَ عِكْرِمَةُ جَبَرَ وَمِيكَ وَسَرَافِ عکرمہ نے کہا: جَبَر ، ميك اور سَرَافِ کے معنی عَبْدٌ إِيل: الله۔ (عبرانی میں) بندہ کے ہیں اور ایل اللہ کو کہتے ہیں یعنی اللہ کا بندہ۔ ٤٤٨٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُنِيرٍ :۴۴۸۰ : عبد اللہ بن منیر نے ہم سے بیان کیا۔ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ انہوں نے عبداللہ بن بکر سے سنا۔ (انہوں نے عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامِ کہا: حمید نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس سے روایت ل (جامع البيان للطبرى، سورة البقرة، آيت: وَكُلا مِنْهَا رَغَدًا ، جزء اول صفحه ۵۵۰)