صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 446
صحیح البخاری جلد ۱۰ الدُّخَانُ وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ۔ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف کرنے لگ جاؤ گے۔ پس کیا قیامت کے دن اُن سے عذاب دور کر دیا جائے گا؟ چنانچہ دھواں اور سخت گرفت والی پیشگوئی ہو چکی۔ أطرافه: ۱۰۰۷ ، ۱۰۲۰ ، ٤٧٦۷، ٤٧٧٤ ، ۴۸۰۹ ، ۴۸۲۰، ۱۸۲۱، ۱۸۲۲، ٤٨۲۳، ٤٨٢٤، ٤٨٢٥۔ تشريح : وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ : عکرمہ کا قول عبد بن حمید نے موصولاً نقل کیا ہے اور عکرمہ ہی سے هَيْتَ کے معنی هیئت لك مروی ہیں۔ یعنی میں تیرے لئے بن سنور کر تیار ہوئی ہوں۔ اور عبدالرزاق نے بھی عکرمہ سے اس کے معنی تبیات لک ایک دوسری سند کے ساتھ نقل کئے ہیں۔ اور ابن مردویہ نے بسند مسروق حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت اس تعلق میں نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے هَيْتَ لَكَ کے معنی مجھے هَلم لك بتائے ہیں۔ اس تعلق میں ابو عمرو بن العلاء شاعر کا یہ شعر امام ابن حجر نے نقل کیا ہے: عُنُقَ إِلَيْكَ فَهِيتَ هِيئًا إِنَّ الْعِرَاقَ وَأَهْلَهُ یعنی عراق اور اس کے باشندے تیری آمد کا گردن اٹھائے منتظر ہیں۔ سو خوشی اور سبک پائی سے آؤ۔ لفظ هیت کی نسبت قراء کے درمیان اختلاف ہے جس کی وجہ سے الگ باب قائم کر کے عنوان باب میں مکرمہ اور ابن جبیر کے حوالے سے اس لفظ کی تشریح کی گئی ہے اور اس کا معنی بتایا گیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۶۲) باب کے تحت دو روایتیں منقول ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے حوالہ سے پہلی میں ھیت کی صحیح قراءت کا ذکر ہے اور دوسری میں عذاب دخان اور قحط کی پیشگوئی پورا ہونے کا، جس سے قریش کو سورہ یوسف نازل کر کے قبل از وقت آگاہ کر کے کہا کہ توبہ واستغفار اور اصلاح حال کے ذریعہ اس سے بچیں اور یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ مؤاخذہ میں دھیما ہوتا ہے۔ لیکن مکذبین انبیاء میں سے کم ہیں جو انذار سے فائدہ اٹھاتے ہوں۔ اور اتمام حجت کے بعد انہیں پکڑا جاتا ہے۔