صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 445 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 445

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۴۵ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف لَكَ (يوسف: ٢٤) قَالَ وَإِنَّمَا نَقْرَؤُهَا کی۔ انہوں نے کہا: هَيْتَ لَكَ۔ کہا: ہم اس کو ویسا كَمَا عُلِّمْنَاهَا، مَثْوَاهُ مُقَامُهُ ، وَ الْفَيَا ہی پڑھتے ہیں جیسا ہم کو سکھایا گیا ہے۔ منوائی کا (يوسف: ٢٦) وَجَدَاء الْفَوا بَاءَهُم معنی ہے اس کا ٹھکانا۔ الفیا کا معنی ہے ان دونوں (الصفت: ۷۰) الفَيْنَا (البقرة: (۱۷۱)۔ نے پایا۔ اس سے الْفُوا أَبَاءهُمْ (انہوں نے وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بَلْ عَجِبْتَ اپنے باپ دادوں کو پایا اور الفيْنَا (ہم نے پایا) ہے۔ اور حضرت ابن مسعود سے بَلْ عَجِبْتَ وَ وَيَسْخَرُونَ (الصُّفْتِ : ۱۳) ۔ يَسْخَرُونَ ۔ منقول ہے۔ ٤٦٩٣ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۶۹۳: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے مسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مسلم سے، مسلم نے مسروق ہے، مسروق نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَلُوا عَنْ رَّسُولِ اللَّهِ روایت کی کہ قریش نے جب رسول اللہ صلی الیم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِسْلَامِ قَالَ سے اسلام کے بارے میں توقف کیا تو آپ نے اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعِ كَسَبْعِ يُوسُفَ فرمایا: اے اللہ ! میرے لئے اُن کے مقابل یوسف فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ کے سات سالوں کی طرح کے سات سالوں کی حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ حَتَّی جَعَلَ الرَّجُلُ صورت میں کافی ہو جا۔ سو ان پر ایسا قحط پڑا جس يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا نے ہر ایک چیز کو فنا کر دیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیاں کھائیں اور کوئی شخص اگر آسمان کی مِثْلَ الدُّخَانِ قَالَ اللَّهُ فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُ خَانٍ مُّبِينٍ ( الدُّخَان: ۱۱) طرف دیکھتا تو اُسے اپنے اور اس کے درمیان دھواں ہی نظر آتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پس قَالَ اللهُ إِنَّا كَا شِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ انتظار کر اُس دن کا جب آسمان ایک واضح دھواں عَابِدُونَ (الدُّخَان: ١٦) أَفَيُكْشَفُ لائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم عذاب کو تھوڑی عَنْهُمُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقَدْ مَضَى دیر کے لئے ہٹا دیں گے مگر تم پھر وہی (کر تو تیں) ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "حقیقت یہ ہے کہ تُو تو حجاب حقیقت یہ ہے کہ تو تو (تخلیق پر) عش عش کر اٹھا ہے جبکہ وہ تمسخر اڑاتے ہیں۔“