صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 445
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۴۴۵ ۲۵ کتاب التفسير / يوسف لَكَ (يوسف: ٢٤) قَالَ وَإِنَّمَا نَقْرَؤُهَا کی۔انہوں نے کہا: هَيْتَ لک۔کہا: ہم اس کو ویسا كَمَا عُلِّمْنَاهَا، مَثْوَاهُ مُقَامُهُ وَ الْفَيَا ہی پڑھتے ہیں جیسا ہم کو سکھایا گیا ہے۔مخواہ کا (يوسف: ٢٦) وَجَدَا الفَوا آبَاءهُم معنی ہے اس کا ٹھکانا۔الفیا کا معنی ہے ان دونوں نے پایا۔اسی سے الْفُوا أَبَاءَهُمْ (انہوں نے اپنے باپ دادوں کو پایا) اور الفینا (ہم نے پایا) ( الصفت: ۷۰) الفَيْنَا (البقرة: ١٧١)۔وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ (الظُّفْتِ: ۱۳)۔ہے۔اور حضرت ابن مسعودؓ سے بَلْ عَجِبْتَ وَ پروورا يَسْخَرُونَ۔منقول ہے۔٤٦٩٣: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۶۹۳: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے اللَّهُ عَنْهُ مسلم سے ، مسلم نے مسروق سے، مسروق نے مَّسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَنُوا عَنْ رَّسُولِ اللَّهِ حضرت عبد اللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ قریش نے جب رسول اللہ صلی اليوم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِسْلَامِ قَالَ سے اسلام کے بارے میں توقف کیا تو آپ نے اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعِ كَسَبْعِ يُوسُفَ فرمایا: اے اللہ ! میرے لئے اُن کے مقابل یوسف فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ کے سات سالوں کی طرح کے سات سالوں کی حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ صورت میں کافی ہو جا۔سو اُن پر ایسا قحط پڑا جس يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا نے ہر ایک چیز کو فنا کر دیا۔یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیاں کھائیں اور کوئی شخص اگر آسمان کی مِثْلَ الدُّخَانِ قَالَ اللهُ فَارْتَقِبُ يَوْمَ تأتي السماءُ بِدُ خَانٍ مُّبِينٍ ( الدُّخَان: ١١) دھواں ہی نظر آتا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پس قَالَ اللهُ إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ انتظار کر اُس دن کا جب آسمان ایک واضح دھواں عَابِدُونَ ( الدُّخَان: ١٦) أَفَيُكْشَفُ لائے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم عذاب کو تھوڑی عَنْهُمُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقَدْ مَضَى دیر کے لئے ہٹا دیں گے مگر تم پھر وہی ( کر تو تیں) ا طرف دیکھتا تو اُسے اپنے اور اس کے درمیان ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: حقیقت یہ ہے کہ تو تو ( تخلیق پر ) عش عش کر اٹھا ہے جبکہ وہ تمسخر اُڑاتے ہیں۔"