صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 443 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 443

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ۔ (يوسف: ۱۹) کے۔ انہوں نے کہا تھا:) اب اچھی طرح صبر کرنا وَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُو بِالْإِفْكِ (ہی میرے لئے مناسب ) ہے اور جو بات تم بیان عُصْبَةٌ مِنْكُمْ (النور : ۱۲) الْعَشْرَ کرتے ہو اس (کے تدارک) کے لئے اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے یہ دس آیات الْآيَاتِ۔ نازل کیں: یقینا وہ لوگ جنہوں نے ایک بڑا اتہام باندھا تھا۔ تمہیں میں سے ایک گروہ ہے۔ أطرافه ٢٥٩٣، ٢٦٣٧ ، ۲٦٦١، ۲۹۸۸، ۲۸۷۹، ٤٠٢٥، ٤١٤١ ، ٤٧٤٩، ٤٧٥٠، ٤٧٥٧) ٠٧٥٠ ٧٥٤٥۰۰ ،۷۳۷۰ ،۷٥٢١٢، ٦٦٦٢، ٦٦٧٩، ٣٦٩ ٤٦٩١ : حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو ۴۶۹۱ موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ نے عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسین سے، حسین نے ابو وائل سے روایت کی۔ کہا: مسروق بن اجدع حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ قَالَ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: مجھے حضرت ام رومان حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَهْيَ أُمُّ عَائِشَةَ نے بتایا اور وہ حضرت عائشہ کی والدہ تھیں، الله يسلم علوم قَالَتْ بَيْنَا أَنَا وَعَائِشَةُ أَخَذَتْهَا انہوں نے کہا: اس دوران کہ میں اور عائشہ عائشہ بیٹھی الْحُمَّى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھیں، عائشہ کو بخار ہو گیا تھا۔ نا ہو گیا تھا۔ تو نبی صلی علیہ ہم نے وَسَلَّمَ لَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحدِّثَ قَالَتْ فرمایا: شاید اس بات کی وجہ سے جو بتائی گئی ہے۔ (حضرت ام رومان نے) کہا: جی ہاں۔ عائشہ یہ نَعَمْ وَقَعَدَتْ عَائِشَةُ قَالَتْ مَثَلِي بات سن کر بیٹھ گئیں اور کہنے لگیں: میری مثال اور وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ بَلْ سَوَّلَتْ آپ کی مثال حضرت یعقوب اور ان کے بیٹوں کی لَكُمُ انْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ سی ہے۔ (حضرت یعقوب نے کہا تھا ) بلکہ تمہارے الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ۔ (يوسف: ١٩) نفسوں نے تمہارے لئے ایک بات کو خوبصورت کر کے دکھلایا ہے (جسے تم کر گزرے ہو) اب اچھی طرح صبر کرنا (ہی میرے لئے مناسب ) ہے اور جو بات تم بیان کرتے ہو اس (کے تدارک کے لئے اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے (اور اس سے مدد مانگی جائے گی ۔) أطرافه ۳۳۸۸، ٤١٤٣، ٤٧٥١۔