صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 442 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 442

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۴۳ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف باب : قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ اَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ (يوسف: ۹ ۱۹) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) یعقوب نے کہا: بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لئے ایک (ایسی بری ) بات کو خوبصورت کر کے دکھلایا ہے ( جسے تم کر گزرے ہو) اب اچھی طرح صبر کرنا (ہی سَوَّلَتْ (يوسف: ۱۹) زَيَّنَتْ ۔ میرے لئے مناسب ) ہے سوکت کے معانی ہیں اُس نے خوبصورت کر کے دکھایا۔ ٤٦٩٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ٤٦٩٠: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ح۔ قَالَ : وَحَدَّثَنَا سے ، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، نیز کہا۔ اور حجاج نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر الْحَجَّاجُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ نمیری نے ہمیں بتایا کہ یونس بن یزید ایلی نے النَّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ہمیں خبر دی۔ کہا: میں نے زہری سے سنا۔ انہوں قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ سَمِعْتُ عُرْوَةَ نے عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب اور علقمہ بن بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةَ وقاص اور عبید اللہ بن عبد اللہ سے نبی صلی اللہ بْنَ وَقَاصِ وَعُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنْ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ کے اس واقعہ کے حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ متعلق سنا جس میں تہمت لگانے والوں نے آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ پر تہمت لگائی تھی اور پھر اللہ نے آپ کی برات الْإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللهُ سُل نازل کی تھی۔ ان میں سے ہر ایک نے ا اس واقعہ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِّنَ الْحَدِيثِ قَالَ کا ایک حصہ مجھ سے بیان کیا۔ (اس میں ہے کہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بری ہو تو النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتِ ضرور اللہ تعالی تمہیں بری فرمائے گا، اور اگر تم بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللهُ وَإِنْ كُنْتِ سے کوئی کمزوری ہو گئی ہو تو اللہ سے مغفرت مانگو أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللهَ وَتُوبِي اور اس کے حضور توبہ کرو۔ (حضرت عائشہ نے إِلَيْهِ قُلْتُ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَجِدُ مَثَلًا بیان کیا کہ ) میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں کوئی مثال إِلَّا أَبَا يُوسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللهُ نہیں پاتی سوائے حضرت یوسف کے باپ کی مثال