صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 441
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۴۱ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف پناہ لی، جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کی اور آپ کے یار غار حضرت ابو بکر کی غیر معمولی طور پر حفاظت فرمائی۔ورنہ آپ کا پیچھا کرنے والے قریش مع کھوجیوں کے غار کے منہ تک پہنچ گئے تھے اور انجام کار قریش مکہ کو آپ ملا ا م کے سامنے ہر موقع پر شکست کھانی پڑی اور فتح مکہ کے موقع پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں بے بس اور سرنگوں ہو گئے اور اسیران جنگ سے دریافت کرنے پر کہ ان سے کیا سلوک کیا جائے، ان کا یہ جواب دینا کہ جو سلوک حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا، اسی سلوک کی آپ سے توقع ہے۔جس پر آپ نے لَا تَثْرِیب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کے الفاظ فرمائے۔اور یہ وہ الفاظ ہیں جو حضرت یوسف نے اس وقت کہے جب ان کے بھائیوں کو اپنے کئے پر ندامت محسوس ہوئی۔قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّحِمِينَ ) (یوسف : ۹۳) - یہ سورۃ بالا تفاق مکہ معظمہ میں ہجرت سے کچھ مدت پہلے نازل ہوئی تھی۔جیسا کہ امام سیوطی نے اس کے متعلق وضاحت سے لکھا ہے۔" اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی فقرہ دہرانا جو حضرت یوسف کے منہ سے نکلا، یقینی طور پر بتاتا ہے کہ جیسا آپ کو سورہ یوسف کے نزول کا مقصود معلوم تھا کفار مکہ بھی جانتے تھے۔ہجرت اور فتح مکہ کے دوران قریش قحط زدگی کا تختہ مشق ہوئے اور ان میں سے بعض نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دعا کے لئے رجوع کیا۔جس طرح حضرت یوسف کے وسیلہ سے ان کا خاندان دین و دنیا کی نعمتوں سے نوازا گیا اور اسے فروغ حاصل ہوا۔اسی طرح آنحضرت صلی سلام کی قوم نے آپ کے طفیل دنیا میں بہت بڑی عزت حاصل کی۔غرض اس قسم کے بہت سے امور مماثلت ہیں جن کے متعلق اگر غور کیا جائے تو اس سورۃ کی عظمت بحیثیت پیشگوئی نمایاں ہو جاتی ہے اور یہی امر اس باب کے عنوان کا موضوع اور مدعا ہے اور روایت زیر باب کا بھی یہی منشاء ہے۔خِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُ كُمْ فِي الْإِسْلَام : یعنی جو لوگ زمانہ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اب بھی اچھے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب لوگوں کے دریافت کرنے پر تھا۔انہوں نے پوچھا: أَى النَّاسِ أَكْرَمُ ؟ آپ نے اس کے دو جواب دیئے - أَكْرَمُهُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاهُمْ - اُن میں اللہ کے حضور وہ زیادہ معزز ہے جو ان میں سے سب سے زیادہ متقی ہے اور دوسرا جواب مذکورہ بالا الفاظ میں۔اور یہ دونوں جواب اُن واقعات سے تصدیق پاتے ہیں جو حضرت یوسف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزرے۔اور اسی وجہ سے امام بخاری نے سورۃ یوسف کی محولہ بالا آیت سے عنوان باب قائم کر کے اس کے تحت روایت نمبر ۴۶۸۹ درج کی ہے۔کیونکہ حضرت یوسف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کی عزت افزائی کے واقعات میں مماثلت پائی جاتی ہے اور یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہوا، أَكْرَمُهُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاهُمْ۔واقعات میں پوری پوری مشابہت ہے۔صرف کم و کیف اور وسعت و عظمت میں فرق ہے۔ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " اس نے کہا آج کے دن تم پر کوئی علامت نہیں اللہ تمہیں بخش دے گا اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔" (الاتقان في علوم القرآن، النوع الأول في معرفة المكي والمدائی، جزء اول صفحه (۳۹) 66