صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 440
صحيح البخاری جلد ۱۰ م ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف نکتہ کی طرف گیا ہے کہ حضرت یعقوب نے اپنے بیٹے حضرت یوسف کی خواب سن کر بایں الفاظ تعبیر کی : وكذلك يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ ( يوسف:۷) کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح تجھے منتخب کرے گا اور اپنی نعمت سے پوری طرح نوازے گا۔ باوجود اس واضح تعبیر کے حضرت یوسف کے متعلق کیوں خوف کھاتے ہیں کہ بھیڑیا اسے کھا جائے گا۔ إِنِّي لَيَحْزُنُنِي أَنْ تَذْهَبُوا بِهِ وَ أَخَافُ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّثْبُ (يوسف: (۱۴) یہ دور کا سوال اٹھا کر شارحین نے کئی ایک جواب دیئے ہیں کہ کھانے سے مراد زخمی کرنا ہے نہ کہ ہلاکت۔ اور حضرت یعقوب کا مقصد حضرت یوسف سے متعلق ہو شیار کرنا تھا۔ ورنہ وہ مطمئن تھے کہ ایسا وقوع میں نہیں آئے گا۔ یہ بھی جواب دیا گیا ہے کہ گنالِكَ يَجْتَبِيكَ فقرہ دعائیہ ہے۔ جیسے کہتے ہیں : يَرحمه الله یعنی بیٹا خدا تجھے بھی اسی طرح نوازے اور یہ دعا قبول ہو یہ دعا قبول ہو گئی تھی۔ کیونکہ جب حضرت یوسف کنویں میں ڈالے۔ جب حضرت یوسف کنویں میں ڈالے گئے تو وہ مور د وحی الہی ہو چکے تھے۔ فرماتا ہے: جب انہوں نے اسے کنویں میں ڈالا تو ہم نے اسے وحی کی کہ تو اپنے بھائیوں کو ان کی اس حرکت سے آگاہ کرے گا۔ وَ اَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِأَمْرِهِمْ هُذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ) ( يوسف: ۱۶) موعودہ اصطفاء و انتخاب حاصل ہونے کے بعد کسی خوف کا احتمال نہ تھا۔ حضرت یعقوب کا اندیشہ صرف احتمالی تھا جو ہر خبر کے ساتھ لازمی ہے۔ فقره أَخَافُ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئب احتمال کی شکل رکھتا ہے نہ کہ امر واقعہ کی۔ امام ابن حجر نے یہ جواب دینے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی علامات الساعة کا حوالہ دیا ہے جس میں قیامت کی نشانیوں میں سے خروج دجال، نزول عیسیٰ اور طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنَ الْمَغْرِبِ وغیرہ علامتیں مذکور ہیں۔ لیکن ایک موقع پر جب سورج گرہن ہوا تو ذکر آتا ہے کہ فقام النبي صلى الله عليه وسلم فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم مضطرب ہو کر اُٹھے۔ آپؐ ڈرے کہ کہیں وہ گھڑی نہ ہو۔ (فتح الباری نہ : جزء ۸ صفحه ۴۶۰) یہ واقعہ بتاتا ہے کہ انبیاء وعدہ الہی کے باوجود اللہ تعالیٰ کے غناء ذاتی سے بے نیاز نہیں ہو جاتے۔ یہ اصل جواب ہے مذکورہ بالا سوال کا جو شارحین نے اٹھایا ہے۔ جو امر قابل غور ہے وہ قریش مکہ کے متعلق پیشگوئی ہے۔ جس میں دونوں مواقع پر واقعات کی مماثلت نمایاں ہوئی۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنا وطن مجبور ا چھوڑنا پڑا اور اس ہجرت کے دوران آپ نے غار حرا میں ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور اسی طرح تیر ارب تجھے (اپنے لئے ) چن لے گا اور تجھے معاملات کی تہ تک پہنچنے کا علم سکھا دے گا اور اپنی نعمت تجھ پر تمام کرے گا۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: یقینا مجھے یہ بات فکر میں ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھا جائے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ”ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ تو (ایک دن) یقینا انہیں ان کی اس کارستانی سے آگاہ کرے گا اور انہیں کچھ پتہ نہ ہو گا (کہ تو کون ہے )۔“ (صحیح البخارى، كتاب الكسوف، باب الذكر فى الكسوف، روایت نمبر ۱۰۵۹)