صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 439
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۳۹ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف باب ۲ لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَ إِخْوَتِهَ أَيْتُ لِلسَّابِلِينَ ( يوسف : ٨) یوسف اور اس کے بھائیوں کے واقعات) میں (حق کے ) طالبوں کے لئے یقیناً کئی نشان ( پائے جاتے ہیں ٤٦٨٩ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۴۶۸۹ : محمد نے مجھے بتایا کہ عبدہ نے ہمیں خبر عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ دی۔ انہوں نے عبید اللہ (عمری) سے، عبید اللہ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ نے سعید بن ابی سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: تَعَالَي عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ الله رسول اللہ صلی علیم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ کون زیادہ معزز ہے؟ آپ نے فرمایا: ان میں سے أَكْرَمُ قَالَ أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاهُمْ اللہ کے نزدیک وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پر ہیز گار قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ ہے۔ لوگوں نے کہا: اس کے متعلق آپ سے فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللهِ ابْنُ نہیں پوچھ رہے۔ آپؐ نے فرمایا: پھر لوگوں میں سب سے بڑھ کر شریف یوسف ہیں جو اللہ کے نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ نبی، نبی اللہ کے بیٹے، فی اللہ کے پوتے اور خلیل اللهِ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ اللہ (حبیب خدا) کے پڑپوتے ہیں۔ انہوں نے فَعَنْ مَّعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي قَالُوا کہا: اس کے متعلق بھی ہم آپ سے نہیں پوچھتے۔ نَعَمْ قَالَ فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ آپؐ نے فرمایا: تو کیا پھر تم مجھ سے عربوں کے خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا ۔ خاندانوں کی نسبت پوچھتے ہو ؟ انہوں نے کہا: تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ۔ ہاں۔ فرمایا: تم میں سے جو جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں، بشرطیکہ دین سیکھیں اور سمجھیں۔ (عبدہ کی طرح) ابو اسامہ نے بھی عبید اللہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ أطرافه: ٣٣٥٣، ٣٣٧٤، ۳۳۸۳، ٣٤٩٠۔ تشرح یوسف دوسرے باب کا عنوان سورہ یوسف کی ایک اہم آیت سے قائم کیا گیا ہے جس کا دراصل تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت سے ہے۔ شارحین کی توجہ اس آیت کے اصل موضوع کی طرف تو منعطف نہیں ہوئی لیکن ان کا یہ خیال اس دقیق