صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 438
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۳۸ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف باب ۱ : وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَعَلَى آلِ يَعْقُوبَ كَمَا انْتَهَا عَلَى اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ ابْراهِيمَ وَإِسْحَقَ (يوسف: ٧) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور وہ تجھے پر اور یعقوب کی آل پر اپنی نعمت پوری کرے گا جیسا کہ اس نے اس سے پہلے تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر کی ٤٦٨٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ :۴۶۸۸ عبد الله بن محمد نے ہمیں خبر دی کہ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ عَبْدِ عبد الصمد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد الرحمن بن عُمَرَ رَضِيَ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ بن عبد اللہ بن دینار سے، انہوں نے اپنے باپ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الله الله (عبد اللہ بن دینار) سے ، ان کے باپ نے حضرت عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: شریف، شریف کے بیٹے، شریف کے پوتے، شریف کے پڑپوتے حضرت یوسف ہیں، جو ابن وَسَلَّمَ قَالَ الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الكريم ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ۔یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام ) ہیں۔أطرافه: ۳۳۸۲، ۳۳۹۰۔تشريح۔وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَعَلَى آلِ يَعْقُوبَ : روایت زیر باب میں حضرت یوسف کی جس : فضیلت کا ذکر ہے وہ بلحاظ نسب ہے۔خود بھی نبی، باپ بھی نبی، دادا بھی نبی اور پڑدادا بھی نبی۔یہ فضیلت خاص نوعیت کی ہے، مطلق فضیلت نہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۵۹) یعنی اس فضیلت سے یہ مراد نہیں کہ آپ ہر جہت و پہلو سے تمام سابقہ انبیاء سے افضل تھے جن میں حضرت موسیٰ جیسے اولوالعزم نبی بھی ہیں۔اس لئے حدیث زیر باب سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہر خوبی کے اعتبار سے حضرت یوسف کو تمام انبیاء پر فضیلت حاصل ہے، بلکہ اس سے نسبتی فضیلت مراد ہے۔وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کے مقابل سب سے افضل تھے۔علامہ عینی نے اتمام نعمت سے مراد نعمت نبوت بیان کی ہے اور اس طرح اعلائے کلمتہ اللہ کی توفیق پانا اور اس کے لئے تمام اسباب کا میسر آنا ہے۔اور یہ بھی لکھا ہے کہ اتمام النعمہ یہ ہے کہ دنیا کی بادشاہت بھی حاصل ہو اور أخر وى انعام سے بھی بہرہ ور ہو۔(عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحه ۳۰۳)