صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 437 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 437

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۳۷ ۲۵ - کتاب التفسير / يوسف (١٢) حَرَضًا: مُحَرَضًا - يُذِيبُكَ الْهَم - غم تجھے گداز کر رہا ہے۔پوری آیت یہ ہے: قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَواتَ ذُكُرُ يُوسُفَ حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَلِدِينَ (یوسف: ۸۶) انہوں نے کہا (کہ) اللہ کی قسم ( یوں معلوم ہوتا ہے کہ) آپ اس وقت تک یوسف کا ذکر کرتے رہیں گے جب تک آپ بیمار نہ پڑ جائیں یا فوت نہ ہو جائیں۔۱۷) تَحَسَّسُوا : ٹوہ لگانا بمعنی تَخَذَرُوا۔یعنی خبر معلوم کرو۔پوری آیت یہ ہے: يُبَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَ آخِيهِ وَلَا تَايْسُوا مِنْ زَوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَاسُ مِن روح الله إِلا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ (يوسف: ۸۸) اے میرے بیٹو! جاؤ اور (جاکر ) یوسف اور اس کے بھائی کی جستجو کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو۔(اصل) بات یہی ہے کہ اللہ کی رحمت سے کافروں کے سوا کوئی (انسان) ناامید نہیں ہوتا۔علامہ عینی نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے تحسّس جو حش سے مشتق ہے اور تجسس کے درمیان یہ فرق نقل کیا ہے کہ تحسّس بمعنی تتبع ہے ، جو اچھی بات کی جستجو کرنے سے متعلق ہے اور تجسس کا تعلق شر سے ہے۔اور حضرت ابن عباس سے ہی تجسسوا کے معنی انتیسوا نقل کئے گئے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۳۰۲) مُزجَاةٍ : اس کے معنی ہیں تھوڑی سی۔یہ لفظ اس آیت میں آیا ہے: فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا يَاأَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَ أَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةِ مُرْجَةٍ فَأَوْفِ لَنَا الكَيْلَ وَتَصَدَّقُ عَلَيْنَا إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِقِينَ (یوسف: ۸۹) پس جب وہ واپس ہو کر پھر ) اس کے (یعنی یوسف کے ) حضور حاضر ہوئے تو (اس سے) کہا (کہ) اے سردار ! ہمیں اور ہمارے (تمام) کنبہ کو (سخت) تنگی پہنچی ہوئی) ہے اور ہم ( بالکل ) تھوڑی سی پونجی لائے ہیں پس آپ ( محض احسان کے طور پر) ہمیں ( مطالبہ کے مطابق) غلہ دے دیں اور صدقہ (کے طور پر حق سے بھی کچھ زیادہ) دیں۔الله صدقہ دینے والوں کو یقیناً ( بڑا) اجر دیتا ہے۔امام عینی نے مُرجَاةٍ کے معنی قَلِيلة اور ردية دونوں نقل کئے ہیں۔یعنی تھوڑی اور رڈی جسے منڈی میں کوئی اور قبول نہ کرے۔قتادہ سے اس کے معنی يسيرة مروی ہیں، یعنی ایسا سامان جو معمولی ہو۔عینی نے عکرمہ اور حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ غلہ لینے کے لئے جو سکہ ان کے پاس تھا وہ کھوٹا تھا اور مبادلہ کے لئے جو اونی سامان یا بوریوں اور رسیوں کی قسم کا سامان تھا، وہ بھی ناقص تھا۔(عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۳۰۲) ١٩) غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللهِ : یعنی عَامَّةٌ مُجَللہ۔ایسی سزا جو عام اور ہمہ گیر ہو۔سب پر چھا جانے والی۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۵۸) یہ لفظ اس آیت میں آیا ہے: آفَا مِنُوا أَنْ تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (یوسف: ۱۰۸) کیا یہ لوگ اس بات سے امن میں ہیں کہ ایک ہمہ گیر سزا اُن پر آجائے یا وہ گھڑی ان کے پاس اچانک آئے (جس کی پہلے سے اطلاع دی جاچکی ہے ) اور انہیں علم بھی نہ ہو۔مذکورہ بالا مفردات کی شرح کے بعد حسب ذیل چھ ابواب قائم کئے گئے ہیں جو سورۃ یوسف کی آیتوں سے معنون ہیں۔