صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 436 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 436

صحیح البخاری جلد ۱۰ دون ۲۵ - کتاب التفسير / يوسف بَعِيرٍ - ذَلِكَ كَيْل يَسِير (یوسف: ۲۲) اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ اُن کی پونجی اُن کی طرف واپس کر دی گئی ہے (اس پر) انہوں نے (اپنے باپ سے) کہا (کہ) اے ہمارے باپ (اس سے بڑھ کر ہم اور کیا خواہش کر سکتے ہیں (دیکھئے) یہ ہماری پونجھی ہے اسے (بھی) ہماری طرف واپس کر دیا گیا ہے اور اگر ہمارا بھائی ہمارے ساتھ جائے گا تو ہم اپنے گھر والوں کو خوراک کا سامان لا دیں گے اور اپنے بھائی کی (ہر طرح سے حفاظت کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے۔یہ وزن ( جو ہمیں مفت ملے گا ) بڑی نعمت ہے۔الميرة : عربی میں بمعنی طعام یعنی خوراک۔مار أَهْلَهُ کے معنی ہیں آئی لِاهْلِهِ طَعَامًا۔امام ابن حجر اور عینی نے فریابی اور تعلیمی کے حوالہ سے بعید کے معنی گدھے کے کئے ہیں۔کیل بَعِيرٍ : گدھے کا بوجھ۔زبان عربی میں حمار کے لئے بھی بغیر کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ کنعان کے ملک میں اونٹ نہیں ہوتا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۵۷) (عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۳۰۲) بے شک اونٹ سارے عرب کا جانور ہے لیکن اونٹ سے دور و نزدیک نقلیات میں مدد لی جاتی ہے۔مجھے کنعان کے علاقہ میں ایک لمبا عرصہ رہنے کا موقع ملا ہے اور اونٹوں کے قافلے آتے جاتے دیکھا کرتا تھا۔گدھے کے لئے دور دراز کا سفر کرنا مشکل ہے۔سوائے اس کے کہ ایک لمبا عرصہ صرف ہو اور صحرا کا طے کرنا تو بہت ہی مشکل ہے۔لہذا گیلَ بَعِید کے معنی بارشتر زیادہ مناسب ہے۔(۱۲) أَوَى الَیهِ - ضَمَّ إِلَيْهِ : اپنے گلے لگایا، فرماتا ہے: وَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى يُوسُفَ أَوَى إِلَيْهِ أَخَاهُ قَالَ إِنِّي أَنَا اَخُوكَ فَلَا تَبْتَبِسْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (یوسف: ۷۰) جب وہ یوسف کے پاس اندر آئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور (اس سے) کہا کہ میں ہی تیرا بھائی ہوں، پس جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کی وجہ غمگین نہ ہو۔(۱۳) تَفْتَوا: لَا تَزالُ۔ہمیشہ ایسی حالت میں رہتا ہے۔۱۴ استَیسُوا: وہ نا اُمید ہو گئے۔وَلَا تَايْسُوا مِنْ زَوْحِ الله (يوسف: ۸۸) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔یعنی اُس سے امید رکھو۔(۱۵) خَلَصُوا نَجِيَّا: وہ الگ ہو کر سرگوشیاں کرنے لگے۔تجھی کی جمع انجية - لفظاً مفرد ہے لیکن بمعنی جمع استعمال ہوتا ہے۔جیسے اس آیت میں استعمال جمع کے معنی میں ہوا ہے۔فرماتا ہے: فَلَمَّا اسْتَيْتَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيَّا قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَوْثِقَا مِنَ اللَّهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُمْ فِي يُوسُفَ فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي إِلَى اَوْ يَحْكُمُ اللهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَكِمِينَ ) (يوسف: ۸۱) جب وہ اس سے مایوس ہوئے تو الگ ہو کر آپس میں سر گوشیاں کرنے لگے۔ان میں سے بڑے نے کہا: تمہیں علم نہیں کہ تمہارے باپ نے اللہ کا پختہ عہد لیا ہے کہ تم اپنے بھائی کو واپس لاؤ گے اور اس سے پہلے جو تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو اس کا تمہیں علم ہے۔میں اس ملک میں ہرگز نہیں جاؤں گا تاوقتیکہ میرا باپ مجھے حکم نہ دے یا اللہ کوئی میرے لئے فیصلہ فرمائے اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔