صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 435 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 435

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۳۵ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ بات تو مانیں گے ہی نہیں خواہ ہم بچے ہوں۔أَشَدَّة: فرماتا ہے وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَة أَتَيْنَهُ حُكْمًا وَ عِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (يوسف:۲۳) جب یوسف اپنی پختہ عمر کو پہنچ گیا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطاء کیا اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔اس آیت میں اسد کے معنی اپنی مضبوطی اور جوانی کی عمر کو پہنچ گیا یعنی بالغ ہو گیا۔یہ معنی ابن منذر نے شعبی، ربیعہ اور زید بن اسلم سے نقل کئے ہیں اور سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ یہ عمر اٹھارہ سال ہے۔بعض نے میں سال کے لگ بھگ کہا ہے اور بعض کے نزدیک پچیس سے تیس سال ہے۔حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ عمر اٹھارہ سے تیس سال ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۳۰۰) شَغَفَهَا: شغاف دل کے پردہ کو کہتے ہیں اور شغف کے معنی پردہ دل تک پہنچ گیا، یعنی محبت نے دل کو چیر لیا۔فرماتا ہے : وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ امَرَاتُ الْعَزِيزِ تَرَاوِدُ فَتْهَا عَنْ نَّفْسِهِ قَدْ شَغَفَهَا حُبَّا إِنَّا لَذَابِهَا في ضَلالٍ مُّبِينٍ (یوسف: ۳۱) اور اُس شہر کی بعض عورتوں نے ایک دوسری سے) کہا (کہ) عزیز کی عورت اپنے غلام سے اس کی مرضی کے خلاف (برا) فعل کروانا چاہتی ہے ( اور ) اس کی محبت نے اس کے دل کی گہرائیوں میں گھر کر لیا ہے۔ہم اس معاملہ میں ) اُسے کھلی (کھلی) غلطی پر دیکھتی ہیں۔و أصْبُ صَبَا يَصْبُو سے صیغہ متکلم مفرد اصبُ ہے۔اَصْبُ اِلَيْهِنَّ کے معنی أَمِيلُ إِلَيْهِنَّ حُبًّا - ابو عبيدة سے یہ معنی مروی ہیں : أَصْبُ اِلَيْهِنَّ أَهْوَاهُنَّ۔ایک شاعر کا قول ہے: إِلَى هِنْدٍ صَبَا قَلْبِي وَهِنْدُ مِثْلُهَا يُصْبَى ہند کی طرف میر ادل مائل ہو گیا اور ہند جیسی عورت چاہنے کے قابل ہوتی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۵۷) (۱۰ أَضْغَاثُ احلام : پراگندہ خواہیں۔بادشاہ نے جب اپنی خواب کی تعبیر پوچھی تو معبرین نے کہا کہ أَضْغَاتُ احلَامِ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَلِمینَ (یوسف: ۴۵) یہ پراگندہ خواہیں ہیں اور ہم ایسی پراگندہ خوابوں کی حقیقت نہیں جانتے۔أَضْغَات جمع ہے ضعف کی یعنی مٹھی بھر گھاس یا کھجور کی گچھا دار شاخ۔ان معنوں میں یہ لفظ سورہ ص میں آیا ہے۔فرماتا ہے : وَخُذُ بِيَدِكَ ضِعْنَا فَاضْرِبُ بِهِ وَلَا تَحْنَتْ - إِنَّا وَجَدْلَهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنه أَوَاب (ص:۴۵) اور (ایوب سے فرمایا) اپنے ہاتھ میں کھجور کی ایک گچھا دار ٹہنی لے اور اس کے ذریعے سواری کو تیزی سے چلا کر سفر طے کر اور باطل کی طرف مائل نہ ہو۔یقینا ہم نے اسے صابر پایا، بہت ہی اچھا بندہ تھا۔وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف بار بار رجوع کرنے والا تھا۔امام بخاری نے اس آیت کی تفسیر سے بعض غلط تفسیروں کی اصلاح کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۵۷) (عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحه ۳۰۱) نَبِيْرُ وَ نَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ : ہم خوراک کا سامان لائیں گے اور بارشتر ہمیں زیادہ ملے گا۔یہ وزن جو ہمیں مفت ملے گا اس زمانہ قحط میں بڑی نعمت ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ ردت الَيْهِمُ - قَالُوا يَا بَانَا مَا نَبْغِي هَذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَتْ إِلَيْنَا وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ أَخَانَا وَ تَزْدَادُ كَيْلَ