صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 434 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 434

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۴ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۵۶) مكوك عراق عرب میں ماپ کا نام تھا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۲۹۹) سوره یوسف کی آیت نمبر ۷۳ میں لفظ صُواع آیا ہے ۔ فرماتا ہے : قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ وَ أَنَا بِهِ نَعِيمٌ انہوں نے کہا کہ ہم شاہی پیمانہ گم پاتے ہیں اور جو اُسے تلاش کر کے لے آئے اُسے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ دیا جائے گا۔ (اعلان کرنے والے نے کہا :) میں اس انعام کا ذمہ دار ہوں۔ آیت نمبر اے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کے بھائی کے سامان میں پینے کا برتن رکھا گیا تھا اور آیت نمبر ۷۳ میں مذکور ہے کہ اعلان کرنے والوں نے اپنے اعلان میں لفظ صواع استعمال کیا جو ذو معنی ہے۔' تُفَتِّدُونِ: اس لفظ کے معنی حضرت ابن عباس سے تُجهِلُونَ اور تُسَقِهُونَ مروی ہیں ۔ یعنی لَوْلَا أَنْ تُسَقِهُونَ اگر تم مجھے بے وقوف ، کم بے وقوف، کم عقل نہ سمجھو، پوری آیت یہ ہے : و ایت یہ ہے : وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلَا أَنْ تُفَنِّدُونِ ) تُفَصِّدُونِ (یوسف: ۹۵) اور جب ( ان کا قافلہ (مصر سے) چل پڑا تو ان کے باپ نے (لوگوں سے) کہا کہ ) ایسا نہ ہو کہ تم مجھے جھٹلانے لگو تو ( میں ضرور کہوں گا کہ مجھے یوسف کی خوشبو ضرور آرہی ہے۔ (۵) غَيْبَتِ الْجُب : جب کے معنی باؤلی ۔ فرماتا ہے : قَالَ قَابِلٌ مِنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا يُوسُفَ وَ الْقُوهُ فِي غَيْبَتِ الْجُبِ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ إِنْ كُنْتُمْ فَعِلِينَ (یوسف: ١١) (اس پر) اُن میں سے ایک بولنے والے نے کہا (کہ) تم یوسف کو قتل نہ کرو اور اگر تم نے (کچھ) کرنا (ہی) ہے تو اُسے (کسی) باؤلی کی تہ میں ڈال دو۔ کسی قافلہ کا کوئی شخص اسے ( دیکھ کر ) اٹھالے گا۔ ( اور بغیر جان لینے کے تمہارا مقصد پورا ہو جائے گا ) غَیبَتِ الْجُب: باؤلی کی ایسی جگہ جہاں نظر نہ آئے۔ یہ معنی ابو عبیدہؓ سے مروی ہیں۔ وَقَالَ غَيْرُہ سے مراد حضرت ابن عباس عباس کے علاوہ یعنی ابو عبیدہ نی ابو عبیدہ ہیں، جیسا کہ علامہ ابن حجر اور عینی نے ذکر کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۵۶) (عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحه ۳۰۰) (۶) مَا أَنتَ بِمُؤْمِن لَنَا : تو ہماری بات ماننے کا نہیں۔ مومن سے مراد مصدق۔ یعنی ہماری بات سچی نہیں سمجھو گے۔ ابو عبیدہ نے اس فقرہ کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۵۶، ۴۵۷) پوری آیت یہ ہے: وَ جَاءُو آبَاهُمْ عِشَاء يَبْكُونَ قَالُوا يَا بَانَا إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَأَكَلَهُ الذئبُ وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِن لَنَا وَ لَوْ كُنَّا صُدِقِينَ (یوسف: ۱۷، ۱۸) اور عشاء کے وقت وہ روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس آئے۔ کہنے لگے : اے ہمارے باپ ! ہم مقابلہ کی دوڑ دوڑنے لگے اور یوسف کو اپنے سامان ا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس کے متعلق فرماتے ہیں: ”اس کے یہ معنی نہیں کہ اُس کو پھنسانے کے لئے، بلکہ اس نے پینے کے لئے پانی مانگا تھا۔ پھر غلطی سے بر تن اس بورے میں جو اس کے بھائی کا تھا رکھ دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یوسف نے تھک کر پینے کے لیے پانی مانگا۔ نو کر پانی لائے اور پانی پی کر اس نے غلطی سے وہ بر تن جو پانی پینے کے کام بھی آتا تھا اور ماپنے کے بھی، بھائی کے بورے میں رکھ دیا۔ ہمارے زمانے میں بھی اکثر دودھ اور غلے گلاس سے ماپے جاتے ہیں اور وہ پانی پینے کے بھی کام آتے ہیں ۔ “ ( دیکھئے تفسیر صغیر ، سورۃ یوسف، حاشیہ آیت نمبر ۷۱)