صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 433
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ - کتاب التفسير / يوسف منْ عَذَابِ اللهِ (یوسف: ۱۰۸) عَامَّةً سے مراد ہے ایسی سزا جو عام ہو۔سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے، چھا جانے والی، ڈھانپنے والی۔مُجَلّلة۔تشریح : امام بخاری نے سورہ یوسف سے متعلق روایات باب وار شروع کرنے سے پہلے بطور تمہید بعض مشکل الفاظ کے معنی بیان کئے ہیں جو متعلقہ آیات کے حوالے سے حسب ذیل ہیں: ملكاً : مند، گاؤ تکیہ وغیرہ، سہارے کی چیز۔فَلَمَّا سَعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَ اعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَعَا وانت كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِينَا وَ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَ قَطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلهِ مَا هُذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكَ كَرِيمٌ (یوسف: ۳۲) اور جب اس نے ان کی ان سرگوشیوں کی خبر سنی تو انہیں ( دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لئے ایک (خاص) مسند تیار کی اور (جب وہ آئیں تو ) ان میں سے ہر ایک کو (کھانے کے کاٹنے کے لئے ایک ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا (کہ) ان کے سامنے آ۔پس جب انہوں نے اُسے دیکھا تو اُسے (بہت) بڑی شان کا انسان پایا اور (اسے دیکھ کر حیرت سے ) اپنے ہاتھ کاٹے اور کہا کہ یہ شخص محض اللہ کے لئے (بدی کے ارتکاب سے) ڈرا ہے۔یہ بشر (ہے ہی نہیں۔یہ (تو) صرف ایک معزز فرشتہ ہے۔(۲ إِنه لَن وَ عِلْمٍ : قتادہ نے ذی علم سے عالم با عمل مراد لی ہے۔اسے ابن ابی حاتم نے بسند بیان کیا ہے۔اِنَّه لَذُو عِلْمٍ میں ضمیر کا مرجع حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں، جیسا کہ سیاق کلام سے واضح ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۵۶) (عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحه ۲۹۹) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَالَ يُبَنِي لَا تَدخُلُوا مِنْ بَابِ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابِ مُتَفَرِّقَةٍ وَمَا أَغْنِى عَنْكُمْ مِنَ اللهِ مِنْ شَيْءٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ عَلَيْهِ توَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ وَ لَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُمْ مَا كَانَ يُغْنِي عَنْهُمْ مِنَ اللهِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا حَاجَةً فِي نَفْسٍ يَعْقُوبَ قَضْهَا وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِمَا عَلَّمْنَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعلَمُونَ (یوسف: ۶۸، ۶۹) اور (یعقوب) نے کہا: اے میرے بیٹو! تم شہر کے ایک ہی دروازہ سے اکٹھے اندر نہ جانا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہو اور میں اللہ کے مواخذہ سے بچانے میں تمہارے کام نہیں آسکتا۔فیصلہ کرنا دراصل اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ رکھیں۔اور جب ( یعقوب کے بیٹے) اسی طریق کے مطابق ( شہر میں ) داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے انہیں حکم دیا تھا ( تو وہ غرض پوری ہو گئی ) یعقوب کے نفس میں ایک خواہش تھی جو اس نے اس طرح پوری کرلی۔وہ اپنی تدبیر سے الہی قضاء و قدر سے انہیں بچا نہیں سکتا تھا۔اور وہ یقیناً صاحب علم تھا، کیونکہ ہم نے اسے تعلیم دی تھی لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔(۳ صُوَاعَ چاندی کا جام، جس سے پانی پیا جاتا ہے۔سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے یہ معنی بحوالہ ابن ابی حاتم اور ابن مندہ نقل کئے ہیں۔یہ لفظ فارسی ہے اور چاندی کا یہ آبخورہ ایران میں استعمال ہو تا تھا۔