صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 432
صحیح البخاری جلد ۱۰ م م ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف أَضْغَاتُ أَحلَامٍ (يوسف : ٤٥) مَا لَا أَضْغَاثُ أَحْلَام یعنی پراگندہ خواہیں جن کی کوئی تَأْوِيلَ لَهُ۔وَالضِغْتُ مِلْءُ الْيَدِ مِنْ تعبیر نہ ہو اور ضغت کے معنی ہیں مٹھی بھر حَشِيشٍ وَمَا أَشْبَهَهُ وَمِنْهُ وَخُذُ بِيَدِكَ گھاس اور اس جیسی کوئی چیز۔اور انہی معنوں میں ضغئًا (ص: ٤٥) لَا مِنْ قَوْلِهِ أَضْغَاثُ آیا ہے : خُذْ بِيَدِكَ ضِغْنا یعنی تو اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر شاخیں لے۔یہ لفظ (ضِغُت) أَضْغَاتُ احلام (يوسف: ٤٥) وَاحِدُهَا ضِغْتٌ۔احلام سے مختلف ہے جس کے معنی ہیں پراگندہ خیالات۔اس کی واحد بھی ضعت ہے۔نَبِيرُ (يوسف: (٦٦) مِنَ الْمِيرَةِ نَبِيِّرُ - الميرة سے ہے۔وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ : وَنَزُدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ (يوسف : ٦٦) ما ہم اتنا اور لیں گے جتنا ایک اونٹ اٹھا سکے یعنی بار يَحْمِلُ بَعِيرٌ۔أَوَى إِلَيْهِ (يوسف: ۱۰۰) اونٹ اوی الیہ کے معنی ہیں اسے اپنے گلے ضَمَّ إِلَيْهِ، السّقَايَةُ مِكْيَالٌ تَفْتَوا لگایا، اپنے ساتھ ملایا۔السقاية یعنی ماپ۔تفتوا۔ہمیشہ ایسے ہی رہو گے۔(يوسف: ٨٦) لَا تَزَالُ۔۔اسْتَيْسُوا (يوسف: ٨١) يَئِسُوا وَلَا اسْتَيْسُوا کے معنی ہیں نا اُمید ہو گئے۔لَا تَا سُوا تَا يَسُوا مِن روح الله (يوسف: ۸۸) مَعْنَاهُ مِنْ زَوْح اللہ کے معنی ہیں اللہ کی رحمت سے نااُمید مت ہو۔الرَّجَاءُ۔خَلَصُوا نَجِيَّا (يوسف (۸۱) اعْتَزَلُوا خَلَصْوَانَجِيًّا: الگ ہو کر مشورہ کرنے لگے۔نَجِيًّا نَجِيَّا (يوسف: ۸۱) وَالْجَمْعُ أَنْجِيَةٌ، كى جمع أَنجِيَّةٌ۔(اس سے) يَتَنجُونَ۔آپس میں يتنجون (المجادلة ۹) الْوَاحِدُ نَجِيٌّ مشورہ کرتے ہیں۔نچھٹی مفرد ہے۔اس کی مثنیہ اور وَالإِثْنَانِ وَالْجَمْعُ نَجِيٌّ وَأَنْجِيَةٌ۔جمع نَجِی اور انجِيَةٌ ہے۔حَرَضًا (يوسف: ٨٦) مُخْرَضًا يُذِيبُكَ حَرَضًا کے معنی ہیں غم سے چور، جسے غم پگھلا الْهَمُ۔تَحَسَّسُوا تَخَبَّرُوا۔ے۔تحسّسُوا کے معنی ٹوہ لگاؤ۔مُزجَاةٍ (يوسف: ۸۹) قَلِيلَةٍ غَاشِيَةٌ مُرْجَاةٍ کے معنی تھوڑی۔غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ