صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 431 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 431

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۳۱ ۲۵ - کتاب التفسير / يوسف اَشْدَّة (يوسف: ٢٣) وَبَلَغُوا أَشُدَّهُمْ یعنی عنفوان شباب۔کہتے ہیں: بَلَغَ أَشُدَّةٌ وَبَلَغُوا أَشُدَّهُمْ : اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ گئے اور بعض نے کہا کہ آشٹ کی مفر دشت ہے۔وَقَالَ بَعْضُهُمْ وَاحِدُهَا شَدُّ۔وَالْمُتَكَأُ مَا اتَّكَأْتَ عَلَيْهِ لِشَرَابٍ اور الْمُتَكَکا کے معنی ہیں گاؤ تکیہ جس سے تو پینے یا أَوْ لِحَدِيثِ أَوْ لِطَعَامٍ وَأَبْطَلَ بات کرنے یا کھانے کے وقت سہارا لے اور جس الَّذِي قَالَ الْأَتْرُجُ وَلَيْسَ فِي نے کہا کہ یہ اثر نج ہے اس نے غلط کہا۔بحالیکہ كَلَامِ الْعَرَبِ الْأُتْرُجُ فَلَمَّا احْتَجَّ كلام عرب میں اثر نج نہیں۔جب ان لوگوں سے جنہوں نے الْمُتَكَةُ أُتُرنج کا مترادف بتایا ہے) عَلَيْهِمْ بِأَنَّهُ الْمُتَكَأُ مِنْ نَّمَارِقَ فَرُّوا مِنْهُ فَقَالُوا إِنَّمَا هُوَ الْمُتْكُ إِلَى شَرٌ اس کی دلیل بیان کی گئی اور کہا گیا: المشکا مند یا سَاكِنَةُ التَّاءِ وَإِنَّمَا الْمُتْكُ طَرَفُ گاؤ تکیہ وغیرہ کی قسم کا ہوتا ہے۔تو وہ اس سے بھی بد تر بات کی طرف بھاگے اور کہنے لگے یہ الْبَطْرِ وَمِنْ ذَلِكَ قِيلَ لَهَا مَتَكَاءُ مُنك ہے اور منگ اندام نہانی کا ابھار ہے۔اسی وَابْنُ الْمَتْكَاءِ فَإِنْ كَانَ ثَمَّ أُتْرُجُ لئے اُسے (یعنی عورت کو عربی زبان میں) مشگاه اور ( آدمی کو) ابنُ الْمَتَكَاءِ کہتے ہیں۔اگر کہیں وہاں اُترنج بھی ہو تو وہ بھی بطور گاؤ تکیہ استعمال فَإِنَّهُ بَعْدَ الْمُتَكَا۔ہونے کے بعد ہی اس مفہوم میں بولا جاتا ہے۔شَغَفَهَا (يوسف: ۳۱) يُقَالُ بَلَغَ إِلَى شَغَفَهَا کے معنی ہیں اس کے دل کے غلاف تک شِغَافِهَا وَهُوَ غِلَافُ قَلْبِهَا وَأَمَّا محبت سا گئی۔کیونکہ شغَافِهَا سے مراد ہے: اُس شَعَفَهَا فَمِنَ الْمَشْعُوفِ۔کے دل کا غلاف۔اگر شَعَفَهَا ہو تو یہ مَشْعُوف سے مشتق ہے۔یعنی فریفتہ ، مجنون ، محب۔اصب اليهن (يوسف: ٣٤) أَمِيلُ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ کے معنی ہیں میں محبت میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا۔الَيْهِنَّ حَبَّا۔فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں الا تو نجے“ ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۵۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں الا ترنج" ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۵۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔