صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 430 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 430

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۳۰ ۶۵ - کتاب التفسير / يوسف ۱۲ - سُورَةُ يُوسُفَ وَقَالَ فُضَيْلٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ اور فضیل بن عیاض بن مسعود) نے حصین مُجَاهِدٍ مُتَكَاً (يوسف : ۳۲) الْأُخْرُجُ بن عبد الرحمن) سے روایت کرتے ہوئے کہا۔ وَقَالَ فُضَيْلَ الْأَتْرُنْجُ } بِالْحَبَشِيَّةِ انہوں نے مجاہد سے متکا کے معنی اخرج یعنی بڑا لیموں کئے ہیں۔ خود فضیل نے بھی کہا کہ مُتْكًا۔ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أترنج حبشی زبان میں منگا کا مترادف ہے اور مُجَاهِدٍ مُتْكًا كُلُّ شَيْءٍ قُطِعَ ابن عیینہ نے ایک شخص بالسكين۔ سے اور اس ور اس شخص نے مجاہد سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ منگا ہر وہ چیز ہے جو چھری سے کاٹی جائے۔ وَقَالَ قَتَادَةُ لَذُو عِلْمٍ (يوسف: ٦٩) اور قتادہ نے کہا کہ لَذُو عِلم وہ شخص ہے جو عَامِلٌ بِمَا عَلِمَ۔ اپنے علم کے مطابق عمل کرنے والا ہو۔ وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ صُوَاعٌ اور سعید بن جبیر نے کہا کہ صواع فارسی میں مَكُوكُ الْفَارِسِيِّ الَّذِي يَلْتَقِي طَرَفَاهُ مَكُوك کا مترادف ہے جو ایک گلاس ہوتا تھا۔ كَانَتْ تَشْرَبُ بِهِ الْأَعَاجِمُ۔ جس کے دونوں کنارے آپس میں ملے ہوتے تھے۔ اس میں عجمی (ایرانی) پانی پیا کرتے تھے۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تُفَنِّدُونِ اور حضرت ابن عباس نے کہا: تُفَصِّدُونِ کے (يوسف: ٩٥) تُجَهَلُونِ۔ وَقَالَ غَيْرُهُ معنی ہیں تم مجھے جاہل ٹھہراؤ گے اور حضرت ابن غَيَابَةُ الْجُبِّ كُلُّ شَيْءٍ غَيْبَ عَنْكَ عباس کے سوا اوروں نے کہا: ہر وہ چیز جو تجھ سے شَيْئًا فَهُوَ غَيَابَةٌ وَالْجُبُّ الرَّكِيَّةُ الَّتِي دوسری چیز کو چھپا دے غيابة کہلاتی ہے اور لَمْ تُطْوَ بِمُؤْمِن لَنَا (یوسف: ۱۸) جب وہ کنواں ہے جس کی بندش نہ ہوئی ہو۔ (ما بِمُصَدِّقِ۔ أَشْدَّة (يوسف : ٢٣) قَبْلَ أَنْتَ بِمُؤْمِن لنا کے معنی ہیں: تو ہماری بات کو أَنْ يَأْخُذَ فِي النُّقْصَانِ يُقَالُ بَلَغَ چامانے کا نہیں۔ اسدی: ضعیفی سے پہلے کا زمانہ ا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۵۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔