صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 429
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۲۹ ۶۵ - كتاب التفسير / هود کا موقعہ اور محل ہو تو وہاں احسان کرو اور اگر احسان سے بڑھ کر قریبیوں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرنے کا محل ہو تو وہاں طبعی ہمدردی سے نیکی کرو اور اس سے خدا تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ تم حدود اعتدال سے آگے گزر جاؤ یا احسان کے بارے میں منکرانہ حالت تم سے صادر ہو جس سے عقل انکار کرے۔یعنی یہ کہ تم بے محل احسان کر دیا بر محل احسان کرنے سے دریغ کر دیا یہ کہ تم محل پر ایتَائِی ذِی القربی کے خلق میں کچھ کمی اختیار کرو یا حد سے زیادہ رحم کی بارش کرو۔اس آیت کریمہ میں ایصال خیر کے تین درجوں کا بیان ہے۔اول: یہ درجہ کہ نیکی کے مقابل پر نیکی کی جائے یہ تو کم درجہ ہے اور ادنی درجہ کا بھلا مانس آدمی بھی یہ خلق حاصل کر سکتا ہے کہ اپنے نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرتا رہے۔دوسرا درجہ اس سے مشکل ہے اور وہ یہ کہ ابتداء آپ ہی نیکی کرنا اور بغیر کسی کے حق کے احسان کے طور پر اس کو فائدہ پہنچانا اور یہ خلق اوسط درجہ کا ہے۔اکثر لوگ غریبوں پر احسان کرتے ہیں اور احسان میں یہ ایک مخفی عیب ہے کہ احسان کرنے والا خیال کرتا ہے کہ میں نے احسان کیا ہے اور کم سے کم وہ اپنے احسان کے عوض میں شکریہ یا دعا چاہتا ہے اور اگر کوئی ممنون منت اس کا مخالف ہو جائے تو اس کا نام احسان فراموش رکھتا ہے۔بعض وقت اپنے احسان کی وجہ سے اس پر فوق الطاقت بوجھ ڈال دیتا ہے اور اپنا احسان اس کو یاد دلاتا ہے۔جیسا کہ احسان کرنے والوں کو خدا تعالیٰ متنبہ کرنے کے لیے فرماتا ہے: لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالْمَنِ والأذى۔یعنی اے احسان کرنے والو ! اپنے صدقات کو جن کی صدق پر بناء چاہیئے احسان یاد دلانے اور دکھ دینے کے ساتھ برباد مت کرو۔یعنی صدقہ کا لفظ صدق سے مشتق ہے۔پس اگر دل میں صدق اور اخلاص نہ رہے تو وہ صدقہ صدقہ نہیں رہتا بلکہ ایک ریا کاری کی حرکت ہو جاتی ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۳- ۳۵۴) مذکورہ بالا مختصر سا نمونہ اسلامی تعلیم کا پیش کیا گیا ہے تا معلوم ہو مرجئہ فرقہ کا نقطہ نظر اسلامی تعلیم سے کتنا دور ہے اور اسی طرف امام بخاری نے اپنے قارئین کو توجہ دلائی ہے۔