صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 428 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 428

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۲۸ ۶۵ - كتاب التفسير / هود صحت قبول کی ہے۔ جس میں نام مذکور نہیں۔ صحابہ کرام ایسے واقعات بیان کرتے وقت نام لینے سے چشم پوشی سے کام لیا کرتے تھے ، جن سے کسی کا نقص یا عیب ظاہر ہو۔ فرقہ مرجئہ نے آیت إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ (هود: ۱۱۵) میں السیات سے یہ استدلال کیا ہے کہ جو بھی گناہ صادر ہوں نیکیاں اُن کا کفارہ ہو جاتی ہیں، ایسے لوگ بخش دیئے جاتے ہیں خواہ گناہ کبیرہ ہو یا صغیرہ۔ فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۵۳) اس تاویل باطل سے ارتکاب گناہ کا نہ صرف دروازہ کھلتا ہے بلکہ نمازوں کی اصل غرض و غایت ہی مفقود ہو جاتی ہے۔ اس فرقہ کا خیال رڈ کرنے کی غرض سے بھی آیت زُلَفًا مِنَ الَّيْلِ کی شرح کے تعلق میں لفظ زُلف کے لغوی معنی بیان ہوئے ہیں اور اس سے مومن کی شان بتانا مقصود ہے کہ (يَمْشِي الْقُدَمَيْهِ) اس کا قدم آگے آگے کو ہوتا ہے۔ ایمان اور معرفت میں ساعت به ساعت ترقی لازمی ہے۔ غرض مومن کی شان بتائی گئی ہے کہ اس کی حالت تزکیہ نفس اور اعمال صالحہ کی بجا آوری میں ترقی پذیر ہوتی ہے۔ (اس تعلق میں دیکھئے کتاب الایمان تشرح باب ۱) عقیدہ مرجئہ وغیرہ کے خلاف جمہور اسلام کا اسلام کا عقیدہ ہے کہ آیت اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہر نیکی ہر بدی کا کفارہ ہوتی ہے۔ بلکہ من حیث العموم نیکیاں اگر مستقل صورت میں جاری رہیں تو وہ بدی کے رجحانات کو پس پردہ ڈال دیتی ہیں اور یہی مفہوم مغفرت کا ہے۔ نماز بھی کفارہ ہے۔ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ ۔ بشر طیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۵۳) نماز سے متعلق یہ پہلو سلبی ہے ایجابی نہیں سلبی پہلو کی قیمت صرف منفی ہے اور شریعت اسلامیہ کی نظر میں گناہ نہ کرنا مقصود بالذات نہیں بلکہ نیکی کرنا اصل مقصود ہے۔ سلبی پہلو پہلی کڑی شرط ہے۔ فرماتا ہے : إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَ لَذِكْرُ اللَّهِ اكْبَرُ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ) ( العنكبوت : (۴۶) نماز یقیناً تمام بری اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے اور اللہ کی یاد سب کاموں سے بڑھ کر ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ اس منفی پہلو سے بڑھ کر مثبت پہلو ہے جیسا کہ سورة النحل آیت 91 میں فرماتا ہے : إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَانِى ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اخلا اخلاق ترک شر کی وضاحت کرنے کے بعد اخلاق ایصال خیر کو بیان کرتے ہوئے اس آیت کی شرح ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ : دوسرا خلق اخلاق ایصال خیر میں سے عدل ہے۔ اور تیسرا احسان اور چوتھا ايْتَائِي ذِي الْقُرْبى - جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے :- ہے : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسَانِ وَ ابْتَانِى ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ نیکی کے مقابل پر نیکی کرو اور اگر عدل سے بڑھ کر احسان لوجه 1 ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ”یقینا اللہ عدل کا اور احسان کا اور اقرباء پر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم عبرت حاصل کرو۔“