صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 427 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 427

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۴۲۷ ۶۵ - كتاب التفسير / هود لفظ زُلف کی لغوی شرح سے سلوک روحانی میں اجتماعی سعی و کوشش اور تدریجی ارتقا کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جو حج کی اصل غرض ہے ۔ سورۃ ہود کی آیت نمبر ۱۱۵ کے سیاق و سباق کا یہی موضوع ہے۔ فرماتا ہے: فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمْسَكُمْ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا لَا : تُنصَرُونَ (هود: ۱۱۴) ۱۱۳، ۔ اور فرماتا ہے: فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُوا بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا اخْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِ مِينَ (هود: ۱۱۷) یہی سیاق کلام واضح کرنے کی غرض سے لفظ زُلف کی لغوی شرح بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ جو روایت سورۃ ہود کی اس آیت کے تحت درج ہے اس سے بھی یہی امر ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ افراد وامت دونوں کا تزکیہ نفس نجات کے لئے ضروری ہے اور اسلام نے اس کے لئے فرائض و نوافل کی عبادت مسنونہ جاری کی ہے جو شب و روز مختلف اوقات میں ہونی چاہیے تا نفس صیقل ہو تا رہے اور وہ آہستہ آہستہ قرب و وصال الہی کا مقام حاصل کر سکے جو انسانی ارتقا کا معراج و منتہی ہے۔ جب تک عابد اپنے معبود کا رنگ و روپ اختیار نہیں کر لیتا اور اس کے اوصاف نہیں اپنا لیتا، صِبْغةُ الله اور نَحْنُ لَهُ عَبدُونَ کا ادعا باطل ہے۔ ذلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ - ہماری رات دن کی عبادتیں اس نصب العین اور غایہ کمالیہ کی یاد ہمیں دلاتی ہیں۔ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِر - کوئی ہے جو اس یاد دہانی سے فائدہ حاصل کرے؟ مذکورہ بالا حدیث ایک دوسری سند سے کتاب مواقیت الصلواۃ زیر باب ۴ گزر چکی ہے۔ جہاں اس کی شرح میں یہ وضاحت ہے کہ الفاظ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ بمعنى تطبيق استعمال ہوئے ہیں اُس سند میں الفاظ لجميع المتي كلهم بھی آئے ہیں۔ جس سے پایا جاتا ہے کہ مذکورہ بالا آیت کا تعلق کسی خاص فرد سے نہیں بلکہ امت کے تمام افراد سے ہے۔ امام بخاری کو سورۃ ہود کی محولہ بالا آیت نمایاں کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ اس کے شان نزول سے متعلق کئی ایک ضعیف روایتیں مروی ہیں۔ جن میں صحابی کا نام بھی مذکور ہے اور روایات کے بیان میں بھی اختلاف ہے۔ علامہ زمخشری نے بھی بعض ایسی کمزور روایتیں اپنی تفسیر میں نقل کی ہیں۔ لیکن امام ابن حجر نے ان روایات کو مجروح قرار دیا ہے اور امام بخاری نے تو اس کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا ہے اور صرف روایت مندرجہ باب کی ا ترجمه حضرت ريت خليفه خليفة الـ المسيح الراج الرابع: "پس جیسے تجھے حکم دیا دیا جاتا جاتا ہے ہے ) (اس پر) مضبوطی سے قائم ہو جا اور وہ بھی ( قائم ہو جائیں) جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی ہے ہے ! اور حد سے نہ بڑھو یقینا وہ اس پر جو تم کرتے رتے ؟ ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔ اور ان لوگوں کی طرف نہ جھکو جنہوں جنہوں نے نے ظلم ظلم کیا ورنہ تمہیں بھی آگ آپکڑے گئی اور اللہ ند کو کو چھوڑ کر تمہارے کوئی سر پرست نہ ہوں گے پھر تم کوئی مدد نہیں دیئے جاؤ گے۔“ ہیں ترجمه حضرت خليفه المسيح الرابع : "پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانوں میں کچھ ایسے صاحب عقل لوگ ہوئے جو زمین میں فساد سے روکتے ہاں مگر اُن چند ایک کا معاملہ الگ ہے جن کو ہم ۔ ہے جن کو ہم نے اُن میں سے نجات دی اور جن لوگوں نے ظلم کیا انہوں نے اُس کی پیروی کی جس کی بنا پر وہ پہلے لوگ) سرکش ٹھہرائے گئے اور وہ مجرم (لوگ) تھے۔“