صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 426
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۲۶ ۶۵ - كتاب التفسير / هود الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ ذَلِكَ ذكرى ہوئی اور (اے مخاطب) تو دن کی دونوں طرفوں للذكرينَ (هود: ١١٥) قَالَ الرَّجُلُ نیز رات کے (متعدد اور مختلف) اوقات میں عمدگی أَلِيَ هَذِهِ؟ قَالَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي۔ سے نماز ادا کیا کر یقینا نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں یہ ( تعلیم اللہ کی) یاد رکھنے والوں کے لیے طرفه: ٥٢٦ ایک نصیحت ہے۔ وہ شخص کہنے لگا: یہ آیت میرے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: میری امت میں سے جس نے بھی اس پر عمل کیا اُس کے لیے ہے۔ تشريح : وَأَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفِي النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۔۔۔۔ دن کے دونوں ابتدائی اور انتہائی حصوں میں اور رات کی گھڑیوں میں نماز سنوار کر ادا کرو۔ اس باب کی معنونہ آیت کا عطف سابقہ باب کی آیت پر ہے۔ اس لئے باب کا عنوان حرف عطف کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔ اس تصرف سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اس آیت کا تعلق بھی سابقہ باب ہی کے مضمون سے ہے۔ اس تعلق میں مشروعہ الفاظ سے سورۃ ہود کی معنونہ آیت نمبر ۱۵ ا کے علاوہ تین اور آیتوں کا حوالہ مقصود ہے۔ وَأَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفَ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ الَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنْتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّكِرِينَ ) (هود: ۱۱۵) طَرَفِي النَّهَارِ سے فجر و مغرب اور ظہر و عصر کے اوقات مراد لئے گئے ہیں۔ کیونکہ طلوع اور زوال شمس کے اعتبار سے ان اوقات میں نمازوں کی حدیں آسانی سے قائم ہو جاتی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۵۱) وَ زُلَفًا مِنَ الَّيْلِ کا مفہوم سَاعَاتُ بَعْدَ سَاعَاتٍ ہے۔ یعنی رات کے وقت بھی چند گھنٹوں کے وقفہ پر عبادت کی جائے کہ ذکر الہی روح کے صیقل کا کام دیتا ہے۔ زلف اور از دلف کے معنی ہیں قریب ہوا۔ لفظ از دلاف میں تدریجاً قریب ہونے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اسی مصدر سے مقام مزدلفة مشتق ہے جو مواقیت حج میں سے ایک میقات ہے۔ مزدلفہ نام اشتقاق کی روح سے رکا رکھا گیا ہے کہ منزل بہ منزل سفر کرتے ہوئے حاجی اکٹھے ہو کر ایک گھڑی وہاں آرام کرتے ہیں اور ایک گھڑی عبادت، اس کے بعد مقام عرفات و منی کی طرف کوچ کیا جاتا ہے۔ ازْدَلَفُوا کے معنی ہیں اجْتَمَعُوا یعنی اکٹھے ہوئے اور أَنْ لَفنھم کے معنی ہیں ہم نے اُن کو اکٹھا کیا۔ زُلفی مصدر ہے بمعنی قرب کے ، کہتے ہیں لَهُ عِنْدِي زُلْفَى : اُسے میرے پاس قرب حاصل ہے۔ ابو عبیدہ نے زُلَفًا مِنَ الَّيْلِ کے معنی سَاعَاتٍ ہی کئے ہیں جو زُلفہ کی جمع ہے۔ یعنی ساعت ، منزل اور قرب۔ عجاج شاعر کا قول ہے : کا نام ے نَاجٍ طَوَاهُ الْأَيْنُ مِمَّا وَجَفَا طيُّ اللَّيَالِي زُلَفًا فَزُلَفًا تیز رفتار اونٹ جو اپنے سوار کو بچھا کر لے جانے والا ہے کئی راتوں کی منزل بہ منزل دوڑ دھوپ نے اُسے دبلا پتلا ، لاغر اور درماندہ کر دیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۵۱)