صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 425
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۲۵ ۶۵ - کتاب التفسير هود الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ اَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ (هود: ۱۱۴) اور تم اُن لوگوں کی طرف جنہوں نے ظلم کیا ہے نہ جھکو ، ورنہ تمہیں بھی آگ کی لپٹ پہنچے گی اور اس وقت اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست و مددگار نہیں ہو گا اور تمہیں کسی طرف سے بھی مدد نہیں ملے گی۔ابو عبیدہ نے لا تركنوا کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ صراط مستقیم چھوڑ کر ظالموں کی طرف مائل نہ ہو۔کہتے ہیں: رگنتُ إِلَى قَوْلت یعنی میں نے تیری بات کو پسند کیا اور قبول کر لیا۔علاوہ ازیں عبد بن حمید نے بواسطہ ربیع بن انس لا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا کا مفہوم یہ بتایا ہے: لَا تَرْضُوا أَعْمالهم یعنی ان کے عمل پسند نہ کرو۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۵۰) بَاب ٦ : وَأَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفِي النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ الَّيْل اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِله كِرِينَ & (هود: ١١٥) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور (اے مخاطب) تو دن کی دونوں طرفوں نیز رات کے (متعد د اور مختلف اوقات میں عمدگی سے نماز ادا کیا کر یقینا نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں یہ ( تعلیم اللہ کی ) یا درکھنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔وَزُلَفًا (هود: ١١٥) سَاعَاتِ بَعْدَ وَزُلَفًا کے معنی ہیں گھڑی گھڑی۔اور اس سے سَاعَاتِ، وَمِنْهُ سُمِّيَتْ الْمُزْدَلِفَةُ، مزدلفہ کا نام رکھا گیا ہے اور زُلف ایک منزل کے الزَّلَفُ مَنْزَلَةٌ بَعْدَ مَنْزِلَةٍ، وَأَمَّا زُلْفَى بعد دوسری منزل کو کہتے ہیں اور زلفی مصدر ہے (الزمر: ٤) فَمَصْدَرٌ مِنَ الْقُرْبَى ازْدَلَفُوا بمعنى قُرْنِي ، یعنی نزدیکی۔ازْدَ لَفُوا کے معنی ہیں وہ اجْتَمَعُوا أَزْلَفْنَا (الشعراء: ٦٥) جَمَعْنَا اکٹھے ہو گئے۔از لفنا کے معنی ہیں ہم نے اکٹھا کیا۔٤٦٨٧: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ :۴۶۸۷ مسدد نے ہمیں بتایا کہ ہم سے یزید بن بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ زُرَیع نے بیان کیا کہ سلیمان تیمی نے ہمیں بتایا۔أَبِي عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ابْن مَسْعُودٍ أَنَّ اُنہوں نے ابو عثمان سے ، ابو عثمان نے حضرت رَجُلًا أَصَابَ مِنْ امْرَأَةِ قُبْلَةً فَأَتَى ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا۔پھر وہ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَاقِهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور الصَّلوةَ طَرَفِي النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ الَّيْلِ إِنَّ آپ سے اس کا ذکر کیا۔پھر آپ پر یہ وحی نازل