صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 423 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 423

۴۲۳ صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / هود زیادہ کون ظالم (ہو سکتا) ہے جو اللہ پر جھوٹ باند ھے۔ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور تمام گواہ کہیں گے (کہ) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔سنو! ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔بتایا جا چکا ہے لعنت کا مفہوم عربی زبان میں رحمت سے دوری ہے۔یہ اعلان گواہوں کی موجودگی میں ہو گا۔الْأَشْهَادُ سے مراد انبیاء کی جماعت ہے۔یعنی اُن کی موجودگی میں اور اُن کی شہادت سے ظالموں پر اتمام حجت ہو کر اُن کی سزا و غیرہ کا فیصلہ ہو گا۔اس باب کے تحت جو روایت منقول ہے وہ کتاب التوحید باب نمبر ۳۶ میں صفوان بن محرز سے ایک نئی سند کے ساتھ مروی ہے۔وَقَالَ هِشَامُ : ہشام سے دستوائی مراد ہیں۔روایت مندرجہ بالا میں ان کی روایت کا ایک لفظی فرق بھی نقل کیا گیا ہے، جس میں بجائے صیغہ فعل مضارع مجہول يدئی کے صیغہ فعل مضارع معروف يَدْنُو ہے۔اس حوالہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شنیدہ ثابت کرنا مقصود ہے۔وَقَالَ شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ : يہ سند کتاب التوحید کے محولہ بالا باب کی آخری روایت میں بھی درج ہے۔وہاں یہ بھی ذکر ہے کہ شیبان سے بیان کرنے والے راوی آدم ہیں۔اُس میں صراحت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔نجوی کے معنی ہیں سرگوشی، قریب ترین جگہ سے ہم کلام ہونا جو محبت، راز و نیاز اور گہرے تعلق پر دلالت کرتا ہے۔مندرجہ بالا روایت میں مذکور ہے کہ خطاؤں کا اقرار کروانے کے بعد اللہ تعالیٰ راز داری میں اپنے بندوں سے فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہاری پردہ پوشی کی تھی اور آج میں تمہیں اپنی مغفرت سے نوازتا ہوں۔غرض مومن اور کافر سے سلوک الگ الگ قسم کا ہو گا۔یہ روایت کتاب الادب باب ۶۰ میں بھی ہے۔وہاں بھی اس کے راوی صفوان بن محرز ہی ہیں۔بَاب ٥ : وَ كَذلِكَ أَخُذُ رَبَّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ۔ان اخذه الِيم شَدِيدٌ (هود: ١٠٣) اللہ تعالیٰ کا فرمانا ) اور تیرے رب کی گرفت جب وہ بستیوں کو اس حالت میں کہ وہ ظلم پر ظلم کر رہی ہوں پکڑتا ہے، اسی طرح (یعنی اتمام حجت کے بعد ) ہوا کرتی ہے۔اس کی گرفت بڑی ہی دردناک ( اور ) سخت ہوتی ہے۔الرّقْدُ الْمَرْفُودُ (هود: (١٠٠) الْعَوْنُ الْمُعِينُ الرُّفْدُ الْمَرْفُودُ کے معنی ہیں کارآمد مدد۔(کہتے رَفَدْتُهُ أَعَنْتُهُ تَرْكَنُوا (هود: ١١٤) ہیں: رَفَدْتُهُ میں نے اُس کی مدد کی۔ترکنوا تَمِيلُوا فَلَوْلَا كَانَ (هود: ۱۱۷) فَهَلا کے معنی ہیں جھکو۔فلولا گان یعنی کیوں نہ ہوا۔