صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 422
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۲۲ ۶۵ - كتاب التفسير / هود قَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ حضرت ابن عمر طواف کر رہے تھے اتنے میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّجْوَى ایک شخص سامنے سے آیا اور کہنے لگا: ابو عبد الرحمن ! الله فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ لا يَقُولُ يُدْنَی یا کہا ابن عمر ! کیا آپ نے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ وَقَالَ هِشَامٌ يَدْنُو مناجات (سرگوشی) کی بابت کچھ سنا ہے۔ اُنہوں الْمُؤْمِنُ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ تَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا مومن اپنے رب سے اتنا قریب کیا جائے گا۔ اور يَقُولُ أَعْرِفُ يَقُولُ رَبِّ أَعْرِفُ ہشام نے یوں کہا: مومن اپنے رب سے اتنا قریب (مَرَّتَيْنِ) فَيَقُولُ سَتَرْتُهَا فِي الدُّنْيَا ہو جائے گا کہ اس کا رب اس پر اپنا پہلو جھکا دے گا اور اُس سے اُس کے گناہوں کا اقرار کروائے وَأَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ثُمَّ تُطْوَى صَحِيفَةُ حَسَنَاتِهِ۔ وَأَمَّا الْآخَرُونَ أَوِ گا۔ (یعنی کہے گا: ) کیا تجھے فلاں گناہ معلوم ہے۔ و کہے گا: میرے رہ نے رب مجھے معلوم ہے۔ دو دفعہ ۔ کہے الْكُفَّارُ فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ گا، تو پھر اس کا رب کہے گا۔ دنیا میں میں نے پردہ هؤلاء الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ پوشی کی اور آج بھی میں تیرے لیے ان پر (هود: ۱۹)۔ وَقَالَ شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ پردہ پوشی کرتا ہوں۔ پھر اس کے بعد اُس کی حَدَّثَنَا صَفْوَانُ۔ نیکیوں کا صحیفہ لپیٹ دیا جائے گا اور جو دوسرے ہوں گے یا (کہا) کافر ہوں گے تو تمام حاضرین کے سامنے بر ملا پکار کر کہا جائے گا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب کے برخلاف جھوٹ أطرافه: ٢٤٤١ ، ٦٠٧٠، ٧٥١٤۔ کہا۔ اور شیبان نے (بھی) قتادہ سے روایت کرتے ہوئے اپنی سند میں یوں کہا: ہم سے صفوان نے بیان کیا۔ تشريح : وَ يَقُولُ الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظلمين : پوری آیت یہ ہے : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّلِمِينَ (هود:۱۹) اور اس سے