صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 421 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 421

۴۲۱ ۶۵ - كتاب التفسير / هود صحيح البخاری جلد ۱۰ لایا گیا ہے کہ ایسی مملکت کے فرمانبرداروں اور باغیوں سے جو سلوک ہمیشہ ہو تا رہا ہے اس کا نمونہ دکھایا جائے۔اللہ تعالیٰ جو مالک ادیان ہے اس کا قانون پاداش ایک غیر متبدل شکل میں ہمیشہ سے مسلسل چلا آیا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ انعام و سزا کے واقعات اتفاقی حادثے نہ تھے۔باقی ماندہ الفاظ کی شرح حسب ذیل ہے۔و ہم۔اراذلنا کے معنی ہیں شفا طنا یعنی ہمارے ادنی لوگ، گرے ہوئے، ذلیل۔اجرا می کے معنی ہیں میرا ارتکاب جرم۔یہ اجر م اور جرم دونوں طرح آتا ہے۔الْفُلْكُ : فلك، فلك اور فلک سب درست ہیں، مفرد اور جمع کی ایک ہی صورت ہے۔ابن التین کے نزدیک فلك مفرد کے لئے اور فُلك جمع کے لئے ہے، جیسے اسد اور اُسد۔عیاض کے نزدیک مفرد اور جمع کے لئے الفلك ہی آتا ہے جو صحیح تلفظ ہے۔اس کے معنی ہیں کشتی یا کشتیاں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۴۶) مَجْرَاهَا: مصدر سیمی ہے۔اخری سے مشتق ہے، یعنی اس کا چلایا جانا۔جری سے باب افعال أَجْرَى ہے۔مَرْسَاهَا کے معنی ہیں اُس کا ٹھہرنا۔رسی سے مصدر میمی ہے۔مُرْسَاهَا بھی قرآت ہے۔جیسے مُجْرَاهَا ہے۔ریسیت کے معنی ہیں لنگر انداز - شفن راسیات کے معنی ہیں لنگر اند از کشتیاں۔قُدُور راسیات کے معنی ہیں دیگیں جو مضبوطی سے اپنی جگہ میں قائم رکھی جائیں۔ابو عبیدہ نے قُدُور راسيات کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ بڑی بڑی بھاری دیگیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۴۶) اس کا ذکر کتاب احادیث الانبیاء، باب ۴۰ میں گذر چکا ہے۔بَاب ٤ : وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ الا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّلِمِينَ (هود: ۱۹) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور تمام گواہ کہیں گے (کہ) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔سنو! اُن ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔وَاحِدُ الْأَشْهَادِ شَاهِدٌ مِثْلُ صَاحِبِ اشْهَاد کا مفروشاہد ہے۔جیسے صاحِب (کی جمع) أَصْحَابُ ہے۔وَأَصْحَابٍ۔٤٦٨٥ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ :۴۶۸۵ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهِشَامٌ قَالَا زُریع نے ہمیں بتایا کہ سعید بن ابی عروبہ) اور حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزِ ہشام بن ابی عبد اللہ ) نے ہم سے بیان کیا۔اُن قَالَ بَيْنَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ إِذْ عَرَضَ دونوں نے کہا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا: صفوان بن رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْ محرز سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: ایک بار