صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 420 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 420

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۲۰ ۶۵ - کتاب التفسير هود سجيل مَنْضُودٍ لا مُسَوَّمَةٌ عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّلِمِينَ بِبَعِيدة (هود: ۸۴،۸۳) پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اس (بستی) کے اوپر والے حصہ کو نیچے والا (حصہ) بنا دیا اور اس پر سو کبھی مٹی کے بنے ہوئے پتھروں کی یکے بعد دیگرے بارش برسائی، جو تیرے رب کی تقدیر میں (ان کے لئے ہی ) مقدر (اور نامزد) کئے ہوئے تھے۔اور ان ظالموں سے (بھی) یہ عذاب دور نہیں۔وو اس حوالہ و شرح سے بتایا گیا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت فرمانبر داروں کی مدد کرتی ہے۔وہاں ظالم سختی سے تباہ و برباد کر دیئے جاتے ہیں۔غرض مذکورہ بالا نو آیات کی طرف توجہ منعطف کروا کر عرش باری تعالیٰ کی کیفیت سمجھائی گئی ہے کہ لکڑی یا سونے اور چاندی یا زمرد کا بنا ہوا نہیں جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے۔مذکورہ بالا تشریحات کے ضمن میں ہی باب نمبر ۳ بھی ہے اس میں سورۃ ہود کی آیت نمبر ۸۵: والی مدین أَخَاهُمْ شُعَيْبا اور پھر چند الفاظ کی شرح ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَ الى مدينَ أَخَاهُمْ شَعَيْبًا قَالَ لِقَوْمِ اعْبُدُوا މ الله مَا لَكُمْ مِنْ الهِ غَيْرُهُ وَلَا تَنْقُصُوا المِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِني أريكُمْ بِخَيْرٍ وَإِني أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ محیط (هود: ۸۵) اور مدین کی طرف (ہم نے) ان کے بھائی شعیب کو ( نبی بنا کر بھیجا) اس نے (انہیں) کہا: اے میری قوم ! تم اللہ کی عبادت کرو۔اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ماپ اور تول کو کم نہ کیا کرو۔میں (اس وقت) یقینا تمہیں اچھی حالت میں دیکھتا ہوں اور ساتھ ہی) میں تمہاری نسبت ایک تباہ کن دن کے عذاب سے ڈر رہا ہوں۔مدین سے مراد اہل مدین ہیں۔جیسا کہ حضرت یعقوب کے بیٹوں کے قول وَسُلِ الْقَرْيَةَ (گاؤں سے پوچھ ) میں اہل دیہہ یعنی اس کے باشندے مراد ہیں۔مدین کی بستی بحیرہ قلزم کے ساحل پر واقع تھی اور یہ حکومت مصر کی باجگزار ریاست اور تجارت کا ایک بڑا مرکز تھی۔یہ بستی تبوک کے محاذ پر واقع تھی۔جس پر ۶۳۰ء میں چڑھائی ہوئی تھی اور یہ مہم غزوہ تبوک کے نام سے تاریخ اسلام میں مشہور ہے۔دمشق سے مدینہ کی طرف آنے والے حاجیوں کے راستے میں تبوک آتا ہے اور اس کے مقابل پر مدین بستی ساحل قلزم پر طور سیناء کے جنوبی علاقہ میں واقع تھی۔حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں سورہ ہود آیت نمبر ۸۵ اور سورہ عنکبوت سوره عنکبوت آیت نمبر ۳۷ میں آیا ہے۔سورۃ ہود میں بلحاظ ترتیب زمنی ان کا ذکر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے بعد ہے اور آیت الا بعد المَدينَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ (هود : ۹۲) سے ظاہر ہے کہ یہ قوم ثمود کے بعد اپنے عروج کو پہنچی، جو عربی النسل ایک قدیم قوم تھی اور قوم عاد کے بعد منطقہ ظہور میں آئی اور بام ترقی پر نمایاں ہوئی۔عاد قوم بھی عربی النسل تھی اور حضرت ہود علیہ السلام کی تکذیب کی وجہ سے احقاف کے ریگستان میں تباہ ہوئی۔مذکورہ بالا ترتیب بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا زمانہ حضرت ابراہیم ال اور حضرت لوط الام کے بعد اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قبل ہے۔حضرت شعیب علیہ السلام بھی عربی النسل نبی تھے۔اس تعلق میں تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب احادیث الا نبیاء باب ۳۴۔ان کی قوم مدیانی کی تباہی کے واقعہ کا ذکر اسی غرض سے ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: خبر دار امدین کے لئے بھی اسی طرح ہلاکت ہو جیسے قوم شمور ہلاک ہوئی۔“