صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 419 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 419

۔b ۴۱۹ ۶۵ - کتاب التفسير / هود صحیح البخاری جلد ۱۰ تنكِرُونَ ) (المؤمن: ۸۲) اور وہ تمہیں اپنے نشانات دکھاتا ہے۔پھر تم اللہ کے نشانوں میں سے کس نشان کا انکار کرو گے۔غرض حضرت امام بخاری نے مذکورہ بالا اشتقاق سے انسان کی آزادی اور اس کی ناز و نعمت میں پروردگی اور اس کے کفرانِ نعمت کی طرف توجہ دلائی ہے۔نیز اس کے انجام کی طرف بھی۔هشتم حَمِيدٌ مَجِيدٌ - حمد اور مجد سے صیغہ مبالغہ بروزن فعیل ہے۔حامد اور ماجد اسم فاعل ہیں اور حمید اسم مفعول کے معنوں میں۔یعنی محمود، لائق ستائش یعنی حمد اور مسجد سے بہت ہی منصف، ستائش کے لائق، عظمت مآب اور عالی شان۔مسجد کے معنی رفعت و علو اور حمید صفت بھی فاعل یعنی حامد کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔یعنی وہ ذات جو اپنے فرمانبرداروں کی بہت ہی قدر دان ہو اور حمید کے معنی ہیں صفاتِ حسنہ سے موصوف۔عرش باری تعالیٰ کے اوصاف کے تعلق میں حمید مجید سے ان آیات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے : قَالَت يُوَيْلَتَى وَالِدٌ وَأَنَا عَجُورٌ وَ هُذَا بَعلَى شَيْئًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عَجِيْبُ قَالُوا أَتَعْجَمِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وبركته عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ) (هود: ۷۳، ۷۴) اس نے کہا بائے میری ذلت کیا میں (بچہ) جنوں گی حالانکہ میں بوڑھی ہو چکی ہوں اور میرا خاوند بھی بڑھاپے کی حالت میں ہے۔یہ یقیناً عجیب بات ہے۔(اس وقت فرستادوں نے کہا: کیا تو اللہ کی بات پر تعجب کرتی ہے۔اسے اس گھر والو ! تم پر (تو) اللہ کی رحمت اور اس کی (ہر قسم کی برکات ( نازل ہو رہی) ہیں۔(پس تمہارے لیے تو یہ بات عجیب نہیں ہونی چاہیے ) وہ یقیناً بہت ہی تعریف والا ( اور ) بزرگ شان والا ہے۔ان آیات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی کی حکومت میں اس کے مطیع اور محبوب بندے عجیب طور سے نوازے جاتے ہیں۔بحالیکہ انسانی حکومت اپنے کارکنوں کی بہت ہی محدود حد تک قدردان ہوتی ہے اور بہت سے مستحق کارکنان قدر دانی سے محروم ہو جاتے ہیں۔کنبہ پروری، دوستی، لحاظ داری، رشوت اور سفارش و فرمائش کی وجہ سے بہت سے نااہل لوگ بڑے بڑے مراتب اور بخشیش حاصل کر لیتے ہیں۔تم سجيل - الشَّدِيدُ الكَبِيرُ۔یعنی سخت اور بڑا۔سجیل اور سجین مترادف ہیں۔حرف ”ل“ اور ن مخرج کے لحاظ سے ایک ہی جنس کے حروف میں سے ہیں۔یعنی زبان کے جس حصہ سے ”ل“ کی آواز خارج ہوتی ہے حرف ”ن“ بھی اسی سے بولا جاتا ہے اور یہ دونوں حروف، حروف متبادلہ میں سے ہیں۔یعنی زبان عربی میں ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں۔تمیم بن مقبل شاعر کا قول ہے: وَرَجُلَةٍ يَضْرِبُونَ البَيْضَ صَاحِيَةً ضَرْبًا تَوَاصَى بِهِ الأبطال سجينا ترجمہ: اور فوج کے کئی پیادہ سپاہی چمک دار تلواریں دائیں بائیں طرف سے چلاتے اور ایسی سخت مار کھلے بندوں مارتے ہیں کہ بہادر اس کی سختی کی وجہ سے بچاؤ کے لئے ایک دوسرے کو اس سے بچنے کی نصیحت کرتے ہیں دجلة جمع ہے راجل کی۔صَاحِيَةٌ کے معنی ہیں ظَاهِرَةُ اور تَوَاصَی دراصل تَتَوَاصَی ہے یعنی ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۴۵،۴۴۴) لفظ سجیل سے یہ آیت مراد ہے: فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيهَا سَافِلَهَا وَ أَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ