صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 418 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 418

۴۱۸ و صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسیر هود عُمْرَی جَعَلْتُهَا لَهُ یعنی میں نے گھر تعمیر کر کے اُس میں اُسے آباد کیا۔آباد شدہ گھر کو عُمری کہتے ہیں۔اس سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ بادشاہ دو عالم نے اپنی رعایا کو اس قابل بنایا کہ دنیا کو آباد کریں۔تصور کریں اس عمران و تمدن کا جو خداداد عقل کے ذریعہ اس وقت تک وجود پذیر ہوا ہے فقرہ استعمرَكُمْ سے یہ آیت مراد ہے: وَالی ثَمُودَ أَخَاهُم صلِحاً قَالَ لِقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَكُمْ مِنْ الهِ غَيْرُهُ هُوَ اَنْشَاكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِیبُ ) (هود: ۶۲) اور محمود کی طرف (ہم نے ) ان کے بھائی صالح کو بھیجا تھا۔اس نے (انہیں) کہا اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں۔اُسی نے تمہیں زمین سے اُٹھایا ( اور بلندی بخشی) اور اُس میں تمہیں آباد کیا۔اس لئے تم اُس سے بخشش طلب کرو اور اُس کی طرف کامل رجوع اختیار کرو۔میرا رب یقیناً قریب ہے ( اور دعائیں قبول کرنے والا ہے۔تمام انبیاء کا فرض منصبی شروع سے اب تک یہی رہا ہے کہ بنی نوع انسان کو اپنے معبود حقیقی کی طرف توجہ دلائیں تا کہ وہ اپنے خالق و مالک اور معبود حقیقی کو بھول نہ جائیں۔جس نے انہیں گوں ناگوں نعمتوں سے نوازا ہے۔دنیا کی مملکتیں رعایا کی یاد دہانی کا انتظام مختلف طریقوں سے کرتی ہیں، جن سے انہیں شاہ مملکت کا پاس رہتا ہے اور وہ حدود سے نکلنے میں جھجکتی ہیں۔رب الکائنات کی طرف سے بھی ویسا ہی انتظام موجود ہے۔انبیاء کو مذکر کہا گیا ہے۔انسان جلدی بھول جاتا ہے اور وہ یاد دہانی کا بڑا ہی محتاج ہے۔جس کی وجہ سے انبیاء کی بعثت کا سلسلہ قائم و دائم ہے۔هفتم: نَكَرَهُمْ وَأَنْكَرَهُمْ وَاسْتَنْكَرَهُمْ وَاحِدٌ: نَکرَ، اَنگر اور استنكر بلحاظ معنی ایک ہی ہیں۔گو ان کے صیغے مختلف ہیں اور نکر کے معنی ہیں شناخت نہ کیا، انکار کیا ، اوپر سمجھا، بُرا منایا اور ناپسند کیا۔انہی معنوں میں سورۃ ہود کی یہ آیت ہے : فَلَنَا رَا اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكَرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلى قَومِ لوط (هود: (اے) پس جب اُس نے اُن کے ہاتھوں کو دیکھا کہ اُس (کھانے) تک نہیں پہنچتے تو (اُس نے ) اُن کے (اس) فعل کو غیر معمولی سمجھا۔اور اس (فعل) سے خطرہ محسوس کیا۔(اس پر) انہوں نے کیا (کہ) تو خوف نہ کر ، ہمیں تو لوط کی قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔اور یہ آیت بھی : وَالَّذِينَ اتَيْنُهُمُ الْكِتَبَ يَفْرَحُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَ مِنَ الْأَحْزَابِ مَنْ يُنْكِرُ بَعْضَهُ قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ وَلَا أَشْرِكَ بِهِ إِلَيْهِ ادْعُوا وَ اِلَيْهِ مَاپه (الرعد: ۳۷) اور وہ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے خوش ہوتے ہیں اُن باتوں سے جو تیری طرف نازل کی گئی ہیں اور مختلف گروہوں سے وہ بھی ہیں جو اُس کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں۔تم کہو کہ میں صرف یہی حکم دیا گیا ہوں کہ اللہ کی عبادت کروں اور اُس کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤں۔اس کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔نیز یہ آیت: آمر لَمْ يَعْرِفُوا رَسُولَهُمْ فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ ، أَمْ يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ ۖ بَلْ جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ وَأَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَرِهُونَ (المؤمنون: (۷۰ ۷۱ ) ( اور ) کیا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا جس کی وجہ سے وہ اُس کا انکار کر رہے ہیں۔کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے۔(مگر ایسی بات نہیں) بلکہ وہ اُن کے پاس حق لے کر آیا ہے اور اُن میں سے اکثر لوگ حق کو نا پسند کرتے ہیں اور یہ آیت بھی: وَيُرِيكُمْ أَيْتِهِ فَای آیت الله و