صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 417
۴۱۷ ط ۶۵ - کتاب التفسیر هود صحیح البخاری جلد ۱۰ سوم : أخذ بِنَاصِيَتِهَا - فرماتا ہے: إِنّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ رَبِّي وَ رَبِّكُمْ مَا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ أَخِدٌ بنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (هود: ۵۷) (ہود نے اپنی قوم سے کہا : میں اللہ پر جو میر ا ( بھی ) رب (ہے) اور تمہارا ( بھی ) رب ہے بھروسہ کرتا ہوں (اور کہتا ہوں کہ روئے زمین پر) کوئی بھی چلنے والا ( جاندار) ایسا نہیں کہ وہ (خدا) اس کی پیشانی کو پکڑے ہوئے نہ ہو۔میرا رب یقیناً مومنوں کی مدد کرنے کے لیے سیدھی راہ پر کھڑا ہے ( اور اپنی طرف آنے والوں کی حفاظت کر رہا ہے۔) خالق کون نظروں سے اوجھل ہے اور وہ اپنے خارق عادت قادرانہ تصرفات کا اظہار انبیاء کے ذریعہ سے کرتا ہے جب فرائین و طواغیت عالم کی زور آزمائی ایک طرف اور معبود یگانہ کا پرستار تنہا دوسری طرف ہو ، وہ اللہ تعالیٰ کا علم پا کر کہتا ہے کہ وہ غالب ہو گا اور دنیا اپنی ساری طاقتوں اور زور آزمائیوں کے باوجو د اُس کی صداقت ہر زمانہ میں مشاہدہ کرتی رہی ہے۔اس آیت کا حوالہ عرش باری تعالی کی نوعیت معلوم کرنے کی غرض سے دیا گیا ہے۔انسان کو بے شک آزادی ارادہ و عمل دی گئی ہے۔لیکن جو اس سے ناجائز فائدہ اُٹھاتا ہے اور حد سے گزرنے لگتا ہے تو وہ پکڑا جاتا ہے۔چهارم: عَنِيْدٌ وَعَنُودٌ وَعَانِدٌ وَاحِدٌ : عَنِيْد اور عَنُودٌ اور عَانِدٌ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی پرلے درجہ کا جابر ، جبر و عناد میں ضدی۔اس لفظ سے یہ آیت مراد ہے : وَتِلْكَ عادل جَحَدُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوا رُسُلَهُ واتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِ جَبَّارٍ عَنيده (هود: ۶۰) اور یہ (مغرور ) عاد (ہی تھے جنہوں نے (دیدہ و دانستہ) اپنے رب کے نشانوں کا انکار کر دیا تھا۔اور اُس کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی۔اور ہر ایک سرکش (اور) حق کے دشمن (شخص) کے حکم کی پیروی کرنے لگ پڑے تھے۔جم: وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ - شاہد کی جمع اشتہار ہے۔جیسے صاحب سے اصحاب ہے۔اس سے یہ آیت مراد ہے۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا أُولَبِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَ يَقُولُ الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ كَفَرُونَ (هود: ۲۰،۱۹) اور اس سے زیادہ کون ظالم ( ہو سکتا ) ہے جو اللہ پر جھوٹ باند ھے۔ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور تمام گواہ کہیں گے (کہ) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔سنو! ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔( یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی طرف پہنچنے ) کی راہ سے (لوگوں کو روکتے ہیں اور اس میں کبھی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور یہی لوگ پیچھے آنے والی (گھڑی) کے (سب سے بڑے) منکر ہیں۔الہی حکومت کا یہ قانون بھی اٹل ہے کہ مفتری علی اللہ اس کے نزدیک سب سے زیادہ ظالم ہے کہ مالک کو نین کی نسبت جرآت کرتا اور اس کی بادشاہت اور پرورش و نگہبانی میں رہتے ہوئے دلیر ہوتا ہے۔ایسے لوگ راندہ درگاہ الہی اور اس کی رحمت سے دور ہوتے ہیں۔لعنت کے معنی ہیں رحمت سے دوری، جس کی شہادت دونوں جہانوں میں قائم ہوتی ہے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ششم: اسْتَعْمَرَكُمْ کے معنی ہیں تمہیں اس قابل بنایا کہ تم آباد کرو۔کہتے ہیں: أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهِيَ